Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ghafir — Ayah 25

40:25
فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ ٱقۡتُلُوٓاْ أَبۡنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ وَٱسۡتَحۡيُواْ نِسَآءَهُمۡۚ وَمَا كَيۡدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ ٢٥
پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا1 تو انہوں نے کہا”جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو۔“2 مگر کافروں کی چال اکارت گئی۔3
Footnotes
  • [1]  سورہ اعراف، آیت 128 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ فرعون کے درباریوں نے اس سے کہا تھا کہ آخر موسیٰؑ کو کھلی چھٹی کب تک دی جاۓ گی، اور اس نے کہا تھا کہ میں عنقریب بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دینے کا حکم دینے والا ہوں (تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 71۔72)۔ اب یہ آیت بتاتی ہے کہ فرعون کے ہاں سے آخر کار یہ حکم جاری کر دیا گیا۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کے حامیوں اور پیروؤں کو اتنا خوف زدہ کر دیا جاۓ کہ وہ ڈر کے مارے ان کا ساتھ چھوڑ دیں۔
  • [2]  اصل الفاظ ہیں وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِی ضِلٰلٍ۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان  کافروں کی جو چال بھی تھی، گمراہی اور ظلم و جور اور مخالفت حق ہی کی راہ میں تھی، یعنی حق واضح ہو جانے اور دلوں میں قائل ہو جانے کے باوجود وہ اپنی ضد میں بڑھتے ہی چلے گئے اور صداقت کو نیچا دکھانے کے لیے انہوں نے کوئی ذلیل سے ذلیل تدبیر اختیار کرنے میں بھی باک نہ کیا۔
  • [3]  یعنی جب پے درپے معجزات اور نشانیاں دکھا کر حضرت موسیٰ نے یہ بات ان پر پوری طرح ثابت کر دی کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوۓ رسول ہیں اور مضبوط دلائل سے اپنا بر سرِ حق ہونا پوری طرح واضح کر دیا۔