Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ghafir — Ayah 8

40:8
رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٨
اے ہمارے ربّ، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنّتوں  میں جن کا تُو نے اُن سے وعدہ کیا ہے1 ، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچا دے2)۔ تُو بلاشبہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے
Footnotes
  • [1]  یعنی ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان کے ماں باپ اور بیویوں اور اولاد کو بھی ان کے ساتھ جمع کر دے۔یہ وہی بات ہے جا اللہ تعالیٰ نے خود بھی ان نعمتوں کے سلسلے میں بیان فرمائی ہے جو جنت میں اہل ایمان کو دی جائیں گی۔ ملاحظہ ہو سورہ رعد آیت 23۔ اور سورہ طور آیت 21۔ سورہ طور والی آیت میں یہ تصریح بھی ہے کہ اگر ایک شخص جنت میں بلند درجے کا مستحق ہو اور اس کے والدین اور بال بچے اس مرتبے ے مستحق نہ ہوں تو اس کو نیچے لا کر ان کے ساتھ ملانے کے بجاۓ اللہ تعالیٰ ان کو اٹھا کر اس کے درجے میں لے جاۓ گا۔
  • [2]  اس میں بھی وہی الحاح کی کیفیت پائی جاتی ہے جس کی طرف اوپر حاشیہ نمبر 8 میں ہم نے اشارہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ معاف کرنا اور دوزخ سے بچا لینا آپ سے آپ جنت میں داخل کرنے کو مستلزم ہے، اور پھر جس جنت کا اللہ نے خود مومنین سے وعدہ کیا ہے، بظاہر اسی کے لیے مومنین کے حق میں دعا کرنا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے، لیکن اہل ایمان کے لیے فرشتوں کے دل میں جذبۂ خیر خواہی کا اتنا جوش ہے کہ وہ اپنی طرف سے ان کے حق میں کلمہ خیر کہتے ہی چلے جاتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ سب مہربانیاں ان کے ساتھ کرنے والا ہے۔