Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Fussilat — Ayah 14

41:14
إِذۡ جَآءَتۡهُمُ ٱلرُّسُلُ مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۖ قَالُواْ لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَٰٓئِكَةٗ فَإِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ١٤
جب خدا کے رسُول اُن کے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے1 اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا”ہمارا ربّ چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو۔“2
Footnotes
  • [1]  یعنی اگر اللہ کو ہمارا یہ مذہب پسند نہ ہوتا اور وہ اس سے باز رکھنے کے لیے ہمارے پاس کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ تم چونکہ فرشتے نہیں ہو بلکہ ہم جیسے انسان ہی ہو اس لیے ہم یہ نہیں مانتے کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے اور اس غرض کے لیے بھیجا ہے کہ ہم اپنا مذہب چھوڑ کر وہ دین اختیار کر لیں جسے تم پیش کر رہے ہو۔ کفار کا یہ کہنا کہ جس چیز کے لیے تم ’’ بھیجے گٴئے ہو‘‘ اسے ہم نہیں مانتے، محض طنز کے طور پر تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ انکو خدا کا بھیجا ہوا مانتے تھے اور پھر ان کی بات ماننے سے انکار کرتے تھے۔ بلکہ یہ اسی طرح کا طنزیہ انداز بیان ہے جیسے فرعون نے حضرت موسیٰ کے متعلق اپنے درباریوں سے کہا تھا کہ : اِنَّ رَسُوْلَکُمْ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْن (الشعراء: آیت 27)۔’’ یہ رسول صاحب جو تمہارے پاس بھیجے گٴئے ہیں بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں ۔‘‘(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورہ یٰس  حاشیہ نمبر 11)
  • [2]  اس فقرے کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان کے پاس رسول آتے رہے۔ دوسرے یہ کہ رسولوں نے ہر پہلو سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو راہ راست پر لانے کے لیے کوئی تدبیر اختیار کرنے میں کسر نہ اٹھا رکھی۔ تیسرے یہ کہ ان کے پاس ان کے اپنے ملک میں بھی رسول آٴئے اور گرد و پیش کے ملکوں بھی آتے رہے۔