Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ash-Shuraa — Ayah 45

42:45
وَتَرَىٰهُمۡ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرۡفٍ خَفِيّٖۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ فِي عَذَابٖ مُّقِيمٖ ٤٥
اور تم دیکھوں گے کہ یہ جہنّم کے سامنے جب لائے جائیں گے  تو ذلّت کے مارے جُھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن اَنکھیوں سے دیکھیں گے۔1 اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلّقین کو خسارے میں ڈال دیا ہے۔ خبر دار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں  گے
Footnotes
  • [1]  انسان کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی ہولناک منظر اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ جان رہا ہوتا ہے کہ عنقریب وہ اس بلا کے چنگل میں آنے والا ہے جو سامنے نظر  آ رہی ہے ، تو پہلے تو ڈر کے مارے وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ پھر اس سے رہا نہیں جاتا۔دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بلا کیسی ہے اور ابھی اس سے کتنی دور ہے۔ لیکن اس کی بھی ہمت نہیں پڑتی کہ سر اٹھا کر نگاہ بھر کر اسے دیکھے۔ اس لیے بار بار ذرا سے آنکھیں کھول کر اسے گوشہ چشم سے دیکھتا ہے اور پھر ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ جہنم کی طرف جانے والوں کی اسی کیفیت کا نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا ہے۔