Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah At-Tahrim — Ayah 4

66:4
إِن تَتُوبَآ إِلَى ٱللَّهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوبُكُمَاۖ وَإِن تَظَٰهَرَا عَلَيۡهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ مَوۡلَىٰهُ وَجِبۡرِيلُ وَصَٰلِحُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ ٤
اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں،1 اور اگر نبی کے مقابلہ میں تم نے باہم جتھہ بندی کی2 تو جان رکھو کہ اللہ  اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہلِ ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اورمدد گار ہیں۔3
Footnotes
  • [1] مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں جتھہ بندی کر کے تم  اپنا ہی نقصان کرو گی،  کیونکہ جس کا مولیٰ اللہ ہے اور جبریل  اور ملائکہ اور تمام صالح اہلِ ایمان جس کے ساتھ ہیں اُس کے مقابلہ میں جتّھہ بندی کر کے کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
  • [2] اصل الفاظ ہیں وَاِنْ تَظَاھَرَ ا عَلَیْہِ تَظَا ھُر کے معنی ہیں کسی کے مقابلہ میں باہم تعاون کرنا یا کسی کے خلاف ایکا کرنا۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس فقرے کا ترجمہ  کیا ہے: ”اگر باہم متفق شوید بر رنجا نیدنِ پیغمبر۔“ شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ ہے: ”اگر تم دونوں چڑھائی کرو گیاں اُس پر۔“ مولانا اشرف علی  صاحب کا ترجمہ ہے:”اور اگر اسی طرح پیغمبر کے مقابلے میں تم دونوں  کاروائیاں کرتی رہیں۔“ اور مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب  نے اِس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے ” اگر تم دونوں اِسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں۔“ آیت کا خطاب صاف طور پر دو خواتین کی طرف ہے ، اور سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواتین رسول اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے ہیں، کیونکہ اِس سورے کی پہلی آیت سے پانچویں آیت تک مسلسل حضور ؐ  کی ازواج کے معاملات ہی زیر بحث آئے ہیں۔ اس حد تک تو  بات خود قرآن مجید کے اندازِ بیان سے ظاہر ہو رہی ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ دونوں بیویاں کون تھیں ، اور وہ معاملہ کیا تھا جس پر یہ عتاب ہوا ہے، اِس کی تفصیل ہمیں حدیث میں ملتی ہے۔ مُسند احمد، بخاری، مُسلم، تِرمِذی اور نَسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس  کی ایک مفصّل روایت نقل ہوئی ہے جس میں کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ یہ قصّہ بیان کیا گیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں ایک مدت سے اِس فکر میں تھا کہ حضرت عمر ؓ سے پوچھوں کہ رسول اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ کون سی دو بیویاں تھیں  جنہوں نے حضور ؐ کے مقابلہ میں جتھہ بندی کر لی تھی اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی ہے کہ اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا۔ لیکن اُن کی ہیبت کی وجہ سے میری ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر ایک مرتبہ وہ حج کے لیے تشریف لے گئے اور میں اُن کے ساتھ گیا۔ واپسی پر راستہ میں ایک جگہ اُن کو وضو کراتے ہوئے  مجھے موقع مل گیا اور میں نے یہ سوال  پوچھ لیا۔ انہوں نے جواب  دیا وہ عائشہ ؓ  اور حفصہ ؓ  تھیں۔ پھر انہوں نے بیان کرنا شروع کیا کہ  ہم قریش کے لوگ اپنی عورتوں کو دبا کر رکھنے کے عادی تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں یہاں ایسے لوگ ملے جن پر اُن کی بیویاں حاوی تھیں ، اور یہی سبق ہماری عورتیں بھی اُن سے سیکھنے لگیں۔ ایک روز میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے رہی ہے ( اصل الفاظ ہیں فَاِذَا ھِیَ تُرَاجِعُنِیْ)۔ مجھے یہ بہت ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے۔ اس نے کہا آپ اس بات پر کیوں بگڑتے ہیں کہ میں آپ کو پلٹ کو جواب دوں؟ خدا کی قسم، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں حضور ؐ  کو دُوبدو جواب دیتی ہیں (اصل لفظ ہے لِیُرا جِعْنَہٗ) اور ان  میں سے کوئی حضور ؐ سے دن دن بھر روٹھی رہتی ہے(بخاری کی روایت میں ہے کہ حضور ؐ اس سے دن بھر ناراض رہتے ہیں)۔ یہ سُن کر میں گھر سے نکلا  اور حَفصہ ؓ کے ہاں گیا ( جو حضرت عمر ؓ  کی بیٹی اور حضور ؐ  کی بیوی تھیں)۔ میں نے اُس سے پوچھا کیا تُو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو بدو جواب دیتی ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا اور کیا تم میں سے کوئی دن دن بھر حضور ؐ سے روٹھی رہتی ہے؟ (بخاری کی روایت  میں ہے کہ حضور  ؐ دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں)۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے کہا نا مراد ہو گئی اور گھاٹے میں پڑ گئی وہ عورت جو تم میں سے ایسا کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس  بات سے بے خوف ہو گئی  ہے کہ اپنے رسول ؐ  کے غضب کی وجہ سے اللہ اس پر غضبناک ہو جائے اور وہ ہلاکت میں پڑ جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی  زبان درازی نہ کر( یہاں بھی وہی الفاظ ہیں لَا تُراجِعِیْ)  اور نہ اُن سے کسی چیز کا مطالبہ کر ، میرے مال سے تیرا جو جی چاہے مانگ لیا کر۔ تُو اس بات  سے کسی دھوکے میں نہ پڑ کہ تیری پڑوسن (مراد   ہیں حضرت عائشہ ؓ ) تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو  زیادہ محبوب ہے۔ اِ س کے بعد  میں وہاں سے نکل اُمِّ سَلَمہ ؓ  کے پاس پہنچا جو میری رشتہ دار تھیں ، اور مَیں نے اِس معاملہ میں ان سے بات کی۔ انہوں نے کہا، ابن خطاب تم بھی عجیب آدمی ہو۔  ہر معاملہ میں تم نے دخل دیا یہاں تک کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور ان کی بیویوں کے معاملے میں بھی دخل دینے چلے ہو۔ اُن کی اس بات نے میری ہمت توڑ دی۔ پھر ایسا ہوا کہ میرا ایک انصاری پڑوسی رات کے قریب میرے گھر آیا اور اس نے مجھے پکارا۔ ہم دونوں باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے اور جو بات کسی کی باری کے دن ہوتی تھی  وہ دوسرے کو بتا دیا کر تا تھا۔ زمانہ وہ تھا جب ہمیں غَسّان کے حملے کا خطرہ لگا ہوا تھا۔ اُس کے پکارنے پر جب میں نکلا تو اُس نے کہا ایک بڑا حادثہ پیش آگیا ہے۔ میں نے کہا کیا غَسّانی چڑھ آئے ہیں؟ اس نے کہا نہیں، اس سے بھی زیادہ بڑا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نا مراد ہوگئی حفصہ، (بخاری کے الفاظ ہیں رَغِمَ اَنْفُ حَفصَۃ و عَا ئِشَۃ) مجھے پہلے ہی اندیشہ تھا  کہ یہ ہونے والی بات  ہے۔“ اس کے آگے کا قصہ ہم نے چھوڑ دیا ہے جس میں حضرت عمر ؓ  نے بتایا ہے کہ دوسرے روز صبح حضور ؐ کی خدمت میں جا کر انہوں نے کس طرح حضور ؐ  کا غصّہ ٹھنڈا کر نے کی کوشش کی۔ اس قصّے کو ہم نے مسند احمد اور بخاری کی روایات جمع کر کے مُرَّب کیا ہے۔ اس میں حضرت عمر ؓ نے مُراجَعَت کا لفظ استعمال کیا ہے اُسے لُغوی معنی میں نہیں لیا جا سکتا بلکہ سیاق و سباق خود بتا رہا ہے کہ یہ لفظ دُوبدُو جواب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے،  اور حضرت عمر ؓ کا اپنی بیٹی سے یہ کہنا کہ لا تراجعنی رسُول اللہ صاف طور پر اس معنی میں ہے کہ حضور ؐ سے زبان درازی نہ کیا کر۔ اس  ترجمے کو بعض لوگ غلط کہتے ہیں اور ان کا اعتراض یہ  ہے کہ مراجعت کا ترجمہ پلٹ کر جواب دینا ، یا دوبدو جواب  دینا تو صحیح ہے، مگر اس کا ترجمہ”زبان درازی“ صحیح نہیں ہے۔ لیکن یہ معترض حضرات اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اگر کم مرتبے کا آدمی اپنے سے بڑے مرتبے کے آدمی کو پلٹ کر جواب دے، یا دو بدو جواب دے تو اسی کا  نام زبان درازی ہے۔ مثلاً باپ اگر بیٹے کو کسی بات پر ڈانٹے یا اس کے کسی فعل پر ناراضی کا اظہار کرے اور بیٹا اس پر ادب سے خاموش رہنے یا معذرت کرنے کے بجائے پلٹ کر جواب دینے پر اتر آئے تو اس کو زبان درازی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پھر جب یہ معاملہ باپ اور بیٹے کے درمیان نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور امت کے کسی فرد کے درمیان ہو تو صرف ایک غبی آدمی ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا نام زبان درازی نہیں ہے۔ بعض دوسرے لوگ ہمارے اس ترجمے کو سُوء ادب قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ سُوءِ ادب اگر ہو سکتا تھا تو اُس صورت میں جبکہ ہم اپنی طرف سے اِس طرح کے الفاظ حضرت حفصہ ؓ کے متعلق استعمال کرنے کی جسارت کرتے۔ ہم نے تو حضرت عمر ؓ کے الفاظ کا صحیح مفہوم ادا کیا ہے، اور یہ الفاظ انہوں نے اپنی بیٹی کو اُس کے قصور پر سرزنش کرتے ہوئے استعمال کیے ہیں۔ اِسے سُوءِ ادب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یا تو باپ اپنی بیٹی کو ڈانٹتے ہوئے بھی ادب سے بات کرے، یا پھر اس ڈانٹ کا ترجمہ کرنے والا اپنی طرف سے اس کو با ادب کلام بنا دے۔ اس مقام پر سوچنے کے قابل بات دراصل یہ ہے کہ اگر معاملہ صرف ایسا ہی ہلکا اور معمولی سا تھا کہ حضور ؐ  کبھی اپنی بیویوں کو کچھ کہتے تھے اور وہ پلٹ کر جواب دیا کرتی تھیں ، تو آخر اس کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے براہِ راست خود اِن ازواجِ مطہرات کو شدّت کے ساتھ تنبیہ فرمائی؟ اور حضرت عمر ؓ نے اس معاملہ کو کیوں اتنا سخت سمجھا کہ پہلے بیٹی کو ڈانٹا اور پھر ازواجِ مطہرات میں سے ایک  ایک کے گھر جا کر ان کو اللہ کے غضب سے ڈرایا؟ اور سب سے زیادہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا آپ کے خیال میں ایسے ہی زور رنج تھے کہ ذرا ذرا سی باتوں پر بیویوں سے ناراض ہو جاتے تھے اور کیا معاذ اللہ آپ کے نزدیک حضور ؐ کی تنک مزاجی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایسی ہی باتوں پر ناراض ہو کر آپ ؐ ایک دفعہ سب بیویوں سے مقاطعہ کر کے اپنے حجرے میں عزلت گزیں ہو گئے تھے؟ ان سوالات پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اسے لامحالہ ان آیات کی تفسیر میں دو ہی راستوں میں سے ایک کو اختیار کرنا پڑے گا۔ یا تو اسے ازواج مطہرات کے احترام کی اتنی فکر لاحق ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ  پر حرف آجانے کی پروا  نہ کرے۔ یا پھر سیدھی طرح یہ مان لے کہ اُس زمانہ میں اِن ازواجِ مطہرات کا  رویّہ فی الواقع ایسا ہی قابل اعتراض ہوگیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراض ہو جانے میں حق بجانب تھے اور حضور سے بڑھ کر خود اللہ تعالیٰ اس بات میں حق بجانب تھا کہ  اِن ازواج کو اس رویّہ پر شدّت سے تنبیہ فرمائے۔
  • [3] اصل میں الفاظ ہیں فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا۔ صَغْو عربی زبان میں مُڑ جانے اور ٹیڑھا ہو جانے کے  معنی میں بولا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اِس فقرے کا ترجمہ کیا ہے: ”ہر آئینہ کج شدہ است دِل شما۔“ اور شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ ہے ”کج ہو گئے ہیں دل تمہارے۔“ حضرات عبد اللہ ؓ بن مسعود ؓ ،  عبداللہ  ؓ بن عباس ؓ ، سُفیان ثوری ؒ اور ضحاک   ؒ  نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے زَاغَتْ قُلُوْ بُکُمَا ، یعنی”تمہارے دل راہِ راست سے ہٹ گئے ہیں۔“   امام رازی  ؒ  اس کی تشریح میں کہتے ہیں ”عدلت و مالت عن الحق وھو حق الرسول صلی اللہ علیہ وسلم،”حق سے ہٹ گئے ہیں، اور حق سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے۔“ اور علامہ ٔ آلوسی ؒ کی تشریح یہ ہے : مالت عن الواجب من موافقتہ صلی اللہ علیہ وسلم  بِحُبِّ ما یحبہ و کراھۃ ما یَلر ھہ الیٰ مخالفتہٖ  یعنی”تم پر واجب تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ پسند کریں اسے پسند کرنے میں اور جو کچھ آپ ؐ  ناپسند کریں اسے ناپسند کرنے میں آپ ؐ  کی موافقت کرو۔ مگر تمہارے دل اِس معاملہ میں آپ کی موافقت سے ہٹ کر آپ کی مخالفت کی طرف مڑ گئے ہیں۔“

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]