Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah At-Tahrim — Ayah 5

66:5
عَسَىٰ رَبُّهُۥٓ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبۡدِلَهُۥٓ أَزۡوَٰجًا خَيۡرٗا مِّنكُنَّ مُسۡلِمَٰتٖ مُّؤۡمِنَٰتٖ قَٰنِتَٰتٖ تَٰٓئِبَٰتٍ عَٰبِدَٰتٖ سَٰٓئِحَٰتٖ ثَيِّبَٰتٖ وَأَبۡكَارٗا ٥
بعید نہیں کہ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں،1 سچی مسلمان، باایمان،2 اطاعت گزار،3 توبہ گزار،4 عبادت گزار،5  اور روزہ دار،6 خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ۔
Footnotes
  • [1] اصل میں لفظ سائحات استعمال ہوا ہے۔ متعدد صحابہ  اور بکثرت تابعین نے اس کے معنی صائمات بیان کیے ہیں۔ روزے کے لیے سیاحت کا لفظ  جس مناسبت سے استعمال کیا جاتا ہے وہ یہ  ہے کہ قدیم زمانے میں سیاحت زیادہ  تر راہب اور درویش لوگ کرتے تھے، اور ان کے ساتھ کوئی زادِ راہ نہیں ہوتا تھا۔ اکثر ان کو اُس وقت تک بھوکا رہنا پڑتا تھا جب تک کہیں سے کچھ کھانے کو نہ مل جائے۔ اِس بنا پر روزہ بھی ایک طرح کی درویشی ہی ہے  کہ جب تک افطار کا وقت نہ آئے روزہ دار بھی بھوکا رہتا ہے۔ ابن جریر نے سُورہ ٔ توبہ ، آیت 12 کی تفسیر میں حضرت عائشہ ؓ  کا قول نقل کیا ہے کہ سیاحۃ ھذہ الامۃ الصیّام،”اس امت کی سیاحت (یعنی درویشی) روزہ ہے۔“ اِس مقام پر نیک بیویوں کی تعریف میں اُن کی روزہ داری کا ذکر اس معنی میں نہیں کیا گیا ہے کہ وہ محض رمضان کے فرض روزے رکھتی ہیں، بلکہ اس معنی میں ہے کہ وہ فرض کے علاوہ نفل روزے بھی رکھا کرتی ہیں۔ ازواجِ مطہرات کو خطاب کر کے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد   کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم کو طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے میں اُن کو ایسی بیویاں عطا فرمائے گا جن میں یہ اور یہ صفات ہوں گی، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ازواجِ مطہرات یہ صفات نہیں رکھتی تھیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری جس غلط روش کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیّت ہو رہی ہے اُس کو چھوڑ دو اور اُس کے بجائے اپنی ساری توجّہات اِس کوشش میں صرف کر دو کہ تمہارے اندر یہ پاکیزہ صفات بدرجہ ٔ اَتَم پیدا ہوں۔
  • [2] عبادت گزار آدمی بہر حال کبھی اُس شخص کی طرح خدا سے غافل نہیں ہوسکتا جس طرح عبادت نہ کرنے والا انسان ہوتا ہے۔ ایک عورت کو بہترین بیوی بنانے میں اِس چیز کا بھی بڑا دخل ہے ۔ عبادت گزار ہونے کی وجہ سے وہ حدود اللہ کی پابندی کرتی ہے، حق والوں کے حق پہچانتی اور ادا کرتی ہے،  اس کا ایمان ہر وقت تازہ اور زندہ رہتا ہے، اُس سے اِس امر کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ احکامِ الہٰی کی پیروی سے منہ نہیں موڑے گا۔
  • [3] تائب کا لفظ جب آدمی کی صفت کے طور پر آئے تو اس کے معنی بس ایک ہی دفعہ توبہ کر لینے والے کے نہیں ہوتے بلکہ ایسے شخص کے ہوتے ہیں جو ہمیشہ اللہ سے اپنے قصوروں کی معافی مانگتا رہے ، جس کا ضمیر زندہ اور بیدار ہو ، جسے ہر وقت اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کا احساس ہوتا رہے اور وہ اُن پر نادم  و شرمسار ہو۔ ایسے شخص میں کبھی غرُور و تکبُّر اور نخوت و خود پسندی کے جذبات پیدا  نہیں ہوتے بلکہ وہ طبعًا نرم مزاج اور حلیم ہوتا ہے۔
  • [4] اِس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک ، اللہ  اور اس کے رسول کی تابع فرمان۔ دوسرے، اپنےشوہر کی اطاعت کرنے والی۔
  • [5] مسلم اور مومن کے الفاظ جب ایک ساتھ لائے جاتے ہیں تو مسلم کے معنی عملاً احکامِ الہٰی پر عمل کرنے والے کے ہوتےہیں اور مومن سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو صدقِ دل سے ایمان لائے۔ پس بہترین مسلمان بیویوں کی اوّلین خصوصیت یہ ہے کہ وہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول ؐ  اور اس کے دین پر ایمان رکھتی ہوں اور عملاً اپنے اخلاق، عادات، خصائل اور برتا و ٔ  میں اللہ کے دین کی پیروی کر نے والی ہوں۔
  • [6] اس سے معلوم ہوا کہ قصُور صرف حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ ہی  کا نہ تھا ، بلکہ دوسری ازواجِ  ؓ مطہرات بھی کچھ نہ کچھ قصور وار تھیں، اسی لیے اُن دونوں کے بعد اِس آیت میں باقی سب ازواج کو بھی تنبیہ فرمائی گئی۔ قرآن مجید میں اس قصور کی نوعیت پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی ہے، البتہ احادیث میں اس کے متعلق کچھ  تفصیلات آئی ہیں۔ اُن کو ہم یہاں نقل  کیے دیتے ہیں۔ بخاری میں حضرت اَنس ؓ کی روایت   ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے آپس کے رشک و رقابت میں مِل جُل کر حضور ؐ کو تنگ کر دیا تھا (اصل الفاظ میں اجتمع نساء النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الغیرۃ علیہ)۔ اس پر میں  نے اُن سے کہا کہ ”بعید نہیں  اگر حضور تم کو طلاق دے دیں تو اللہ تم سے بہتر بیویاں آپ ؐ  کو عطا فرما دے۔“ ابن ابی حاتم نے حضرت اَنس ؓ کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کا بیان ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ”مجھے خبر پہنچی کہ امہات المومنین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کچھ ناچاقی ہو گئی ہے۔ اس پر میں ان  میں سے ایک ایک کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرنے سے باز آجاو ٔ  ورنہ اللہ تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں حضور ؐ کو عطا فرما دے گا۔ یہاں تک کہ جب میں امہات المومنین میں سے آخری کے پاس گیا ( اور بخاری کی ایک روایت کے بموجب حضرت اُمِّ سَلَمہ ؓ تھیں) تو انہوں نے مجھے جو اب  دیا اَے عمر، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی نصیحت کے لیے کافی نہیں ہیں کہ تم  انہیں نصِحت کرنے چلے ہو؟ اس پر میں خاموش ہو گیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مسلم میں حضرت عبداللہ ؓ بن عباس ؓ کی روایت  ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ان سے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیٰحدگی اختیار فرمالی تو میں مسجد نبوی میں پہنچا۔ دیکھا کہ لوگ متفکر بیٹھے ہوئے کنکریاں اٹھا اٹھا کر گرا رہے ہیں اور آپس میں کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ  کے ہاں اپنے جانے اور ان کو نصیحت کرنے کا ذکر کیا، پھر فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا ” بیویوں کے معاملہ میں آپ ؐ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ اگر آپ ان کو طلاق دے دیں تو اللہ آپ ؐ کے ساتھ ہے، سارے ملائکہ اور جبریل و میکائیل آپ ؐ کے ساتھ ہیں اور مَیں اور ابوبکر  اور سب اہلِ ایمان آپ ؐ کے ساتھ ہیں۔“ میں اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ کم ہی ایسا ہوا ہے کہ مَیں نے کوئی بات کہی ہو اور اللہ سے یہ امید نہ رکھی ہو کہ وہ میرے قول کی تصدیق فر مادے گا ، چنانچہ اس کے  بعد سورہ ٔ  تحریم کی یہ آیات نازل ہو گئیں۔ پھر میں نے حضور ؐ سے  پوچھا کہ آپ ؐ نے بیویوں کو طلا ق دے دی ہے؟ حضور ؐ نے فرمایا نہیں۔ اس پر میں نے مسجد نبوی کے دروازے پر کھڑے ہو کر بآوازِ بلند اعلان کیا کہ حضور ؐ  نے اپنی بیویوں کو طلا ق نہیں دی ہے۔ بخاری میں حضرت انس ؓ اور مُسند احمد میں حضرت عبداللہ ؓ بن عباس ، حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے یہ روایات منقول ہوئی ہیں کہ حضور ؐ نے ایک مہینہ تک کے لیے اپنی بیویوں سے علیحٰدہ رہنے کا عہد فرمالیا تھا اور اپنے بالاخانے میں بیٹھ گئے  تھے۔ 29 دن گزر جانے پر جبریل علیہ السّلام نے آکر کہا  آپ کی قسم پُوری ہو گئی ہے، مہینہ مکمل ہو گیا۔ حافظ بدر الدین عینی نے عُمدۃ القاری میں حضرت عائشہ ؓ کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے کہ ازواجِ مطہرات کی دو پارٹیاں بن گئی تھیں۔ ایک میں خودحضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ،حضرت سودہ ؓ اور حضرت صفیہ ؓ تھیں ، اور دوسری میں حضرت زینب ؓ ، حضرت اُم سَلَمہ ؓ اور باقی ازواج  شامل تھیں۔ ان تمام روایات سے کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی میں کیا حالات پیدا ہو گئے تھے جن کی بنا پر یہ ضروری ہوا کہ اللہ تعالیٰ مداخلت کر کے ازواجِ مطہرات کے طرزِ عمل کی اصلاح فرمائے۔ یہ ازواج اگر چہ معاشرے کی بہترین خواتین تھیں، مگر بہرحال تھیں انسان ہی، اور بشریت کے تقاضوں سے مبرّا نہ تھیں۔ کبھی ان کے لیے مسلسل عُسرت کی زندگی بسر کرنا دشوار ہو جاتا تھا اور وہ بے صبر ہو کر حضور ؐ  سے نفقہ کا مطالبہ کرنے لگتیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ ٔ احزاب کی آیات 29-28 نازل فرما کر ان کو تلقین کی کہ اگر تمہیں دنیا کی خوشحالی مطلوب ہے تو ہمارا رسول تم کو بخیرو خوبی رخصت کر دے گا، اور اگرتم اللہ اور اس کے رسول ؐ  اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو تو پھر صبر و شکر کے ساتھ ان تکلیفوں کو برداشت کرو جو رسول  کی رفاقت میں پیش آئیں( تفصیل کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب ، حاشیہ 41، اور دیباچہ ٔ سورہ ٔ  احزاب، صفحہ 84)۔ پھر کبھی نسائی فطرت کی بنا پر اُن سے ایسی باتوں کا ظہور ہو جاتا تھا  جو عام انسانی زندگی میں معمول کے خلاف نہ تھیں، مگر جس گھر میں ہونے کا شرف اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا تھا، اس کی شان اور اس کی عظیم ذمّہ داریوں سے وہ مطابقت نہ رکھتی تھیں۔ اِن باتوں سے جب یہ اندیشہ پیدا ہو ا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کہیں تلخ نہ ہو جائے اور اُس کا اثر اُس کارِ عظیم پر مترتب نہ ہو جو اللہ تعالیٰ حضور ؐ  سے لے  رہا تھا، تو قرآن مجید میں یہ آیت نازل کر کے ان کی اصلاح فرمائی گئی  تاکہ ازواجِ مطہرات کے اندر اپنے اُس مقام اور مرتبے کی ذمّہ داریوں کا احساس پیدا ہو جو اللہ کے آخری رسول ؐ کی رفیقِ زندگی ہونے کی حیثیت سے ان کو نصیب ہو ا تھا، اور وہ اپنے آپ کو عام عورتوں کی طرح اور اپنے گھر کو عام گھروں کی طرح نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس آیت کا پہلا ہی فقرہ ایسا تھا کہ اس کو سُن کر ازواجِ مطہرات کے دل لرز اٹھے ہوں گے۔ اِس ارشاد سے بڑھ کر ان کے لیے تنبیہ اور کیا ہو سکتی تھی کہ”اگر نبی تم کو طلاق دے دے تو بعید نہیں کہ اللہ اُس کو تمہاری جگہ تم سے بہتر بیویاں عطا کر دے۔“ اوّل تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طلاق مل جانے کا تصوّر ہی ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا، اس پر یہ بات مزید کہ تم سے  امہات المومنین ہونے کا شرف چِھن جائےگا اور دوسری عورتیں جو اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں لائے گا وہ تم سے بہتر ہونگی۔ اس کے بعد تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ازواجِ مطہرات سے پھر کبھی کسی ایسی بات کا صدور ہوتا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت کی نوبت آتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بس دو ہی مقامات ہم کو ایسے ملتے ہیں جہاں اِن برگزیدہ خواتین کو تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ ایک سُورہ ٔ احزاب اور دوسرے یہ سورہ ٔ تحریم۔