Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah At-Tahrim — Ayah 8

66:8
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيُدۡخِلَكُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ يَوۡمَ لَا يُخۡزِي ٱللَّهُ ٱلنَّبِيَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥۖ نُورُهُمۡ يَسۡعَىٰ بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتۡمِمۡ لَنَا نُورَنَا وَٱغۡفِرۡ لَنَآۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٨
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ1، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں تم سے دُور کر دے اور تمہیں ایسی جنّتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔2 یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رُسوا نہ کرے گا۔3 اُن کا نُور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے ربّ، ہمارا نُور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تُو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔4
Footnotes
  • [1] آیت کے الفاظ قابلِ غور ہیں۔ یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ توبہ کر لو تو تمہیں ضرور معاف کر دیا جائے گا اور لازماً تم جنت میں داخل کر دیے جاو ٔ گے، بلکہ یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر تم سچے دل سے توبہ کرو گے تو بعید نہیں کہ اللہ تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ گناہ گار کی توبہ  قبول کر لینا اور اسے سزا دینے کے بجائے  جنت عطا فرما دینا اللہ پر واجب نہیں ہے ، بلکہ یہ سراسر اُس کی عنایت و مہربانی ہوگی کہ وہ معاف بھی کرے اور انعام بھی دے۔ بندے کو اس سے معافی کی امید تو ضرور رکھنی چاہیے مگر اس بھروسے پر گناہ نہیں کرنا چاہیے کہ توبہ سے معافی مل جائے گی۔
  • [2] اِس آیت کو سُورہ ٔ حدید کی آیات 13-12 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہلِ ایمان کے آگے آگے نُور کے دوڑنے کی یہ کیفیت اُس وقت پیش آئے گی جب وہ میدانِ حشر سے جنت کی طرف جارہے ہونگے۔ وہاں ہر طرف گھُپ اندھیرا ہو گا جس میں وہ سب لوگ ٹھوکریں کھارہے ہونگے جن کے حق میں دوزخ کا فیصلہ ہوگا، اور روشنی صرف اہلِ ایمان کے ساتھ ہو گی جس کے سہارے وہ اپنا  راستہ طے کر رہے ہونگے۔ اس نازک موقع پر تاریکیوں میں بھٹکنے والے لوگوں کی آہ و فغاں سُن سُن کر اہلِ ایمان پر خَشِیّت کی کیفیت طاری ہو رہی ہو گی، اپنے قصوروں اور اپنی کوتاہیوں کا احساس کر کے انہیں اندیشہ لاحق ہو گا کہ کہیں ہمارا نُور بھی نہ چھِن جائے اور ہم اِن بد بختوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے نہ رہ جائیں، اس لیے وہ دعا کریں گے کہ اَے ہمارے رب ہمارے قصور معاف فرما دے اور  ہمارے نُور کو جنت میں پہنچنے تک ہمارے لیے باقی رکھ۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ  کا قول نقل کیا ہے کہ  رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا کے معنی یہ ہیں کہ  ” وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ان کا نُور اُس وقت تک  باقی رکھا جائے اور اُسے بجھنے نہ دیا جائے جب تک وہ  پُل صراط سے بخیریت نہ گزر جائیں۔“ حضرت حسن بصری اور مجاہد اور ضحّاک  کی تفسیر بھی قریب قریب یہی ہے۔ ابن کثیر نے ان کا یہ قول نقل کیا  ہے کہ ” اہلِ ایمان جب یہ دیکھیں گے کہ منافقین نُور سے محروم رہ گئے ہیں تو وہ اپنے حق میں اللہ سے تکمیلِ نُور کی دعا کریں گے۔“(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، لحدید، حاشیہ 17)۔
  • [3] یعنی اُن کے اعمالِ حسنہ کا اجر ضائع نہ کرے گا۔ کفار و منافقین کو یہ کہنے کا موقع ہر گز نہ دے گا کہ اِن لوگوں نے خداپرستی بھی  کی تو اس کا کیا صلہ پایا۔ رسوائی باغیوں اور نافرمانوں کے حصّے میں آئے گی  نہ کہ وفاداروں اور فرماں برداروں کے حصّے میں۔
  • [4] اصل میں  توبۃً نَّصُوحًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ نُصح کے معنی عربی زبان میں خلوص اور خیر خواہی کے ہیں۔ خالص شہد  کو عَسلِ  ناصح کہتے ہیں جس کو موم اور دوسری آلائشوں سے پاک کر دیا گیا ہو۔ پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور اُدھڑے ہوئے کپڑے کو مرمت کر دینے کے لیے نَصَاحۃ الثَّوب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ پس توبہ کو نَصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبار سے یا تو یہ ہو گا کہ آدمی ایسی خالص توبہ کرے جس میں ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو۔ یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچا لے۔ یا یہ کہ گناہ سے اس کے دین میں جو شگاف پڑ گیا ہے ، تو بہ کے ذریعہ سے اس کی اصلاح کر دے۔ یا یہ کہ توبہ کر کے وہ اپنی زندگی کو اتنا سنوار لے کہ دوسروں کے لیے وہ نصیحت کا موجب ہو اور اس کی مثال کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اُسی کی طرح اپنی اصلاح کر لیں۔ یہ تو ہیں توبہ ٔ نصوح کے وہ مفہومات جو اس کے لغوی معنوں سے مترشح ہوتے ہیں۔ رہا اس کا شرعی مفہوم تو اس کی تشریح ہمیں اُس حدیث میں ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زِرّین حُبَیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اُبَیّ بن کعب ؓ سے توبہ ٔ نصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا۔ آپ ؐ نے فرمایا ” اِس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہو جائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو۔“ یہی مطلب حضرت عمر ؓ ، حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود اور حضرت عبداللہ ؓ بن عباس سے بھی منقول ہے، اور ایک روایت میں حضرت عمر ؓ  نے توبہ ٔ نصوح کی تعریف  یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار ، اُس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے(ابن جریر)۔ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ ایک بدُّو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا یہ تَوبۃُ الکذّابین ہے۔ اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے؟ فرمایا، اُس کے ساتھ  چھ چیزیں ہونی چاہییں(1) جو کچھ ہو چکا ہے اس پر نادم ہو۔(2) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہو اُن کو  ادا کر۔(3) جس کا حق مارا ہو اُس کو واپس کر۔(4)جس کو تکلیف پہنچائی ہو اُس  سے معافی مانگ۔(5) آئندہ کے لیے عزم کر لے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا۔ اور(۶) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھُلا دے جس طرح تُو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اُس کو طاعت کی تلخی کا مزاچکھا جس طرح اب تک  تُو اُسے معصیتوں کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے۔(کشّاف) توبہ کے سلسلہ میں چند امور اور بھی ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ اوّل یہ کہ توبہ درحقیقت کسی معصیت  پر اس لیے نادم ہونا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے۔ ورنہ کسی گناہ سے اس لیے پرہیز کا عہد کر لینا کہ وہ مثلاً صحت کے لیے نقصان دہ ہے، یا کسی بدنامی کا  ، یا مالی نقصان کا  موجب ہے، توبہ کی تعریف میں نہیں آتا۔ دوسرے  یہ کہ جس وقت آدمی کو احساس ہو جائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے ، اسی وقت اسے توبہ کرنی چاہیے اور جس شکل میں بھی ممکن ہو بلا تاخیر  اس کی تلافی کر دینی چاہیے، اُسے ٹالنا مناسب نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ توبہ کر کے بار بار اسے توڑتے چلے جانا اور توبہ کو کھیل بنا لینا اور اُسی گناہ کا بار بار اعادہ کرنا جس سے توبہ کی گئی ہو، توبہ کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ  توبہ کی اصل روح گناہ پر شرمساری ہے، اور بار بار کی توبہ شکنی اس  بات کی علامت ہے کہ اُس کے پیچھے کوئی شرمساری موجود نہیں ہے۔ چوتھے یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے یہ عزم کر چکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا، اس سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر اُسی گناہ کا اعادہ ہو جائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ  ہو گا ، البتہ اسے بعد والے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے اور زیادہ  سختی کے ساتھ عزم کرنا چاہیے کہ آئندہ وہ توبہ شکنی  کا مرتکب نہ ہو۔ پانچویں یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یا د آئے، توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں ہے، لیکن اگر اُس کا نفس اپنی سابق گناہ گارانہ زندگی کی یاد سے لطف لے رہا ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے یہاں تک کہ گناہوں کی یاد اُس کے لیے لذّت کے بجائے شرمساری کی موجب بن جائے۔ اس لیے کہ جس شخص نے فی الواقع خدا کے خوف کی بنا پر معصیت سے  توبہ کی ہو وہ اِس خیال سے لذت نہیں لے سکتا کہ وہ خدا کی نافرمانی کرتا رہا ہے۔ اُس سے لذّت لینا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے خوف  نے اس کے دل میں جڑ نہیں پکڑی ہے۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]