Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Mulk — Ayah 12

67:12
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ ١٢
جو لوگ بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں،1 یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔2
Footnotes
  • [1] یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے۔ کسی کا بُرائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ بُرائی ہے ، یا دنیا اسے بُرا سمجھتی ہے، یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے ، یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیا د ہے ۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے، وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو بُرا اور ایک بُری چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے۔ دنیا کے معیارِ خیر وشر اول تو یکساں نہیں ہیں، پھر وہ وقتاً فوقتاً بدلتے بھی رہتے ہیں، کوئی عالمگیر اور ازلی و ابدی معیا ر دنیا کے اخلاقی فلسفوں میں نہ آج پایا جاتا ہے نہ کبھی پایا گیا ہے۔ دنیوی نقصان کا اندیشہ بھی اخلاق کے لیے کوئی مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ جو شخص بُرائی سے اس لیے بچتا ہو کہ وہ دنیا میں اُس ذات پر مترتب ہونے والے کسی نقصان سے ڈرتا ہے وہ ایسی حالت میں اُس کے ارتکاب سے باز نہیں رہ سکتا جبکہ اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی طرح کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ بھی وہ چیز نہیں ہے جو انسان کو ایک شریف انسان بنا سکتی ہو۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طاقت بھی عالم الغیب و الشہادہ نہیں ہے۔ بہت سے جرائم اُس کی نگاہ سے بچ کر کیے جا سکتے ہیں۔ اور ہر دنیوی طاقت کی گرفت سے بچنے کی بے شمار تدبیریں ممکن ہیں۔ پھر کسی دنیو ی طاقت کے قوانین بھِ تمام بُرائیوں کا احاطہ نہیں کرتے۔ بیشتر برائیاں ایسی ہیں جن پر دنیوی قوانین کوئی گرفت سرے سے کرتے ہی نہیں، حالانکہ وہ اُن برائیوں سے قبیح تر ہیں جن پر وہ گرفت کرتے ہیں۔ اس لیے دین حق نے اخلاق کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی ہے کہ اُس اَن دیکھے خدا سے ڈر کر بُرائی سے اجتناب کیا جائے جو ہر حال  میں انسان کو دیکھ رہا ہے ، جس کی گرفت سے انسان بچ کر کہیں نہیں جا سکتا، جس نے خیر و شر کا ایک ہمہ گیر، عالمگیر اور مستقل معیار انسان کو دیا ہے۔ اُسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑنا اور نیکی کو اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جو دین کی نگاہ میں قابلِ قدر ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی انسان بدی نہیں کرتا ، یا اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے جو افعال نیکی میں شمار ہوتے ہیں اُن کو اختیار کرتا ہے تو آخرت میں اس کے یہ اخلاق کسی قدر اور وزن کے مستحق نہ  ہوں گے، کیونکہ ان کی مثال اُس عمارت کی سی ہے جو ریت پر تعمیر ہوئی ہو۔
  • [2] یعنی خدا سے بالغیب ڈرنے کے دو لازمی نتائج ہیں۔ ایک یہ کہ جو قصور بھی بشری کمزوریوں کی بنا پر آدمی سے سرزد ہو گئے ہوں وہ معاف کر دیے جائیں گے، بشرطیکہ ان کی تہ میں خدا سے بے خوفی کا ر فرما نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جو نیک اعمال بھی انسان اِس عقیدے کے ساتھ انجام دے گا اُ س پر وہ بڑا اجر پائیگا۔