Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Mulk — Ayah 3

67:3
ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗاۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٖۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٖ ٣
س نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔1 تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاوٴ گے۔2 پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟3
Footnotes
  • [1] ”اصل میں لفظ فُطور استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دراڑ، شگاف ، رخنہ، پھٹا ہواہونا ، ٹوٹا پھوٹا ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات کی بندش ایسی چُست ہے ، اور زمین کے ایک ذرّے سے لے کر عظیم الشان کہکشانوں تک ہر چیز ایسی مربوط ہے کہ کہیں نظم ِ کائنات کا تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ تم خواہ کتنی ہی جستجو کر لو، تمہیں اس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں مل سکتا(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم، تفسیر سورہ ق، حاشیہ8)۔
  • [2] اصل تَفاوُت کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں ، عدم تناسُب ۔ ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ اَنْمِل بے جُوڑ ہونا۔ پس اِس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات میں تم کہیں بد نظمی، بے تربیتی اور بے ربطی نہ پاؤ گے۔ اللہ کی پیدا کردہ اِس دنیا میں کو ئی چیز اَنْمِل بے جوڑ نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں اور ان میں کمال درجے کا تناسُب پایا جاتا ہے۔
  • [3] تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ، حاشیہ34۔جلد دوم،الرعد،حاشیہ2۔1 الحجر، حاشیہ 8۔جلد سوم، الحج، حاشیہ 113۔ المومنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 5 ۔ المومن، حاشیہ 9۰۔