Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Mulk — Ayah 5

67:5
وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ ٥
ہم نے تمہارے قریب کے آسمان1 کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے2 اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔3 اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کر رکھی ہے
Footnotes
  • [1] اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں، اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں،  بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بے حدو حساب شہابِ ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں، اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے ، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالمِ بالا میں جا سکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہاب انہیں مار بھگاتے ہیں۔ اس چیز کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عرب کے لوگ کاہنوں کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے اور یہی خود کاہنوں کا دعوٰی بھی تھا، کہ شیاطین اُن کے تابع ہیں، یا شیاطین سے اُن کا رابطہ ہے  ، اور اُن کے ذریعہ سے اُنہیں غیب کی خبریں حاصل ہوتی ہیں اور وہ صحیح طور پر لوگوں کی قسمتوں کا حال بتا سکتے ہیں۔ اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین کے عالمِ بالا میں جانے اور وہاں سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم،الحجر،حواشی9تا12۔جلد چہارم، الصافات، حواشی۶،7)۔           رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے ، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم میں آئے ہیں، اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں، ان کی بنا ء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظر یہ  یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے  میں آکر  ادھر کا رُخ کر لیتے ہیں(ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا بر ٹا نیکا، ایڈیشن 19۶7؁۔ جلد 15۔لفظ(Meteorites )۔
  • [2] اصل میں لفظ”مصابیح“نکرہ استعمال ہوا ہے ، اورا س کے نکرہ ہونے سے خود بخود ان چراغوں کے عظیم الشان ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے ۔ ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کائنات ہم نے اندھیری اور سُنسان نہیں بنائی ہے بلکہ اسے ستاروں سے خوب مزین اور آراستہ کیا ہے جس کی شان اور جگمگاہٹ رات کے اندھیروں میں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔
  • [3] قریب کے آسمان  سے مراد وہ آسمان ہے جس کے تاروں اور سیاروں کو ہم برہنہ آنکھوں سے دیکھتے  ہیں۔ اس سے آگے جن چیزوں کے مشاہدے کے لیے آلات کی ضرورت پیش آتی ہو وہ دُور کے آسمان ہیں۔ اور ان سے بھی زیادہ دُور کے آسمان وہ ہیں جس تک آلات کی رسائی  بھی نہیں ہے۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]