Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Jinn — Ayah 1

72:1
قُلۡ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ ٱسۡتَمَعَ نَفَرٞ مِّنَ ٱلۡجِنِّ فَقَالُوٓاْ إِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡءَانًا عَجَبٗا ١
اے نبیؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی  گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا1 پھر (جا کر  اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا:”ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے2
Footnotes
  • [1] اصل الفاظ میں قُرُاٰناً عَجَبًا۔ قرآن کے معنی ہیں۔”پڑھی جانے والی چیز“اور یہ لفظ غالبًا جِنوں نے اِسی معنی میں ا ستعمال کیا ہوگا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اس کلام سے متعارف ہوئے تھے اور شاید اُس وقت اُن کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ جو چیز وہ سُن رہے ہیں اس کا نام قرآن ہی ہے۔ عَجَب مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہ لفظ عربی زبان میں بہت زیادہ حیرت انگیز چیز کے لیے بولا جاتا ہے۔ پس جِنوں کے قول کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک ایسا کلام سُن کر آئے ہیں جو اپنی زبان اور اپنے مضامین کے اعتبار سے بے نظیر ہے۔           اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جِن نہ صرف یہ کہ انسانوں کی باتیں سنتے ہیں بلکہ ان کی زبان بخوبی سمجھتے بھی ہیں۔ اگر چہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام جِن تمام انسانی زبانیں جانتے ہوں۔ ممکن ہے کہ اُن میں سے جو گروہ زمین کے جس علاقے میں رہتے ہوں اُسی علاقے کے لوگوں کی زبان سے وہ واقف ہوں۔ لیکن قرآن کے اِس بیان سے بہر حال یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جِن جنہوں نے اُس وقت قرآن سنا تھا وہ عربی زبان اتنی اچھی جانتے تھے کہ انہوں نے اِس کلام کی بے مثل بلاغت کو بھی محسوس کیا اور اُس کے بلند پا یہ مضامین کو بھی خوب سمجھ لیا۔  
  • [2] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جِن اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہیں آرہے تھے اور آپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ قرآن سن رہے ہیں، بلکہ بعد میں وحی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کواس واقعہ کی خبر دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اِس قصّے کو بیان کرتے  ہوئے صراحت فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جِنوں کے سامنے قرآن نہیں پڑھا تھا، نہ آپ نے ان کو دیکھا تھا “(مسلم ۔ ترمذی۔ مُسند احمد۔ ابنِ جریر)۔