Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Muzzammil — Ayah 6

73:6
إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيۡلِ هِيَ أَشَدُّ وَطۡـٔٗا وَأَقۡوَمُ قِيلًا ٦
درحقیقت رات کا اُٹھنا1 نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر 2 اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔3
Footnotes
  • [1] اصل میں لفظ اَشَدُّ وَطْأً استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں اتنی سوعت ہے کہ کسی ایک فقرے میں اسے ادا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ رات کو عبادت کے لیے اٹھنا اور دیر تک کھڑے رہنا چونکہ طبیعت کے خلاف ہے اور نفس اُس وقت آرام کا  مطالبہ کرتا ہے ، اس لیے یہ فعل ایک ایسا مجاہدہ ہے جو نفس کے دبانے اور اس پر قابو پانے کی بڑی زبردست تاثیر رکھتا ہے۔ اِس طریقے سے جو شخص اپنے آپ پر قابو پا لے اور اپنے جسم و ذہن پر تسلّط حاصل کر کے  اپنی اِس طاقت کو خدا کی راہ میں استعمال کرنے پر قادر ہو جائے وہ زیادہ مضبوطی کے ساتھ دینِ حق کی دعوت کو دنیا میں غالب کرنے کے لیے کام کر سکتا ہے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ دل اور زبان کے درمیان موافقت پیدا کرنے کا بڑا مؤثر ذریعہ ہے، کیونکہ رات کے اِن اوقات میں بندے اور خدا کے درمیان کوئی دوسراحائل نہیں ہوتا اور اس حالت میں آدمی جو کچھ زبان سے کہتا ہے وہ اس کے دل کی  آواز ہوتی ہے ۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ظاہر و باطن میں مطابقت پیدا کرنے کا بڑا کار گر زریعہ ہے، کیونکہ رات کی تنہائی میں جو شخص اپنا آرام چھوڑ کر عبادت کے لیے اٹھے گا وہ لا محالہ اخلاص ہی کی بنا پر ایسا کرے گا، اس میں ریا کاری کا سرے سے کوئی موقع ہی نہیں ہے۔ چوتھا مطلب یہ ہے کہ یہ عبادت چونکہ دن کی عبادت کی بہ نسبت آدمی پر زیادہ گراں ہوتی ہے  اس لیے اس کا التزام کرنے سے آدمی میں بڑی ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے ، وہ خدا کی راہ میں زیادہ مضبوطی کے ساتھ چل سکتا ہے اور اس راہ کی مشکلات کو زیادہ استقامت کے ساتھ برداشت کر سکتا ہے۔
  • [2] اصل میں اَقْوَمُ قِیْلاً ارشاد ہوا ہے جس کے لغوی معنی ہیں”قول کو زیادہ راست اور درست بناتا ہے“۔ لیکن مدعا یہ ہے کہ اُس وقت انسان قرآن کو زیادہ سکون و اطمینان اور توجہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھ  سکتا ہے۔ ابن عباس ؓ اس کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ  اجد ران یفقہ فی القرآن، یعنی ”وہ اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ آدمی قرآن میں غور دخوض کرے“(ابو دا ؤد)۔
  • [3] اصل میں لفظ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ استعمال کیا گیا ہے جس کے متعلق مفسّرین اور اہل  لغت کے چار مختلف اقوال ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ ناشئہ ہے، یعنی وہ شخص جو رات کو اٹھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد رات کے اوقات ہیں۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں رات کو اٹھنا۔ اور چوتھا قول یہ ہے  کہ اس لفظ کا اطلاق محض رات کو اٹھنے پر نہیں ہوتا بلکہ سو کراُٹھنے پر ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ اور مجاہد ؒ نے اِسی چوتھے قول کو اختیار کیا ہے۔