Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Insan — Ayah 2

76:2
إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا ٢
ہم نے انسان کو ایک مخلُوط نُطفے سے پیدا کیا1 تاکہ اس کا امتحان لیں2 اور اِس غرض کے لیے ہم نے  اسے سُننے اور دیکھنے والا بنایا۔3
Footnotes
  • [1] اصل میں فرمایا گیا ہے”ہم نے اسے سمیع و بصیر بنایا“۔ اِس کا مفہوم صحیح طور پر ”ہوش گوش رکھنے والا بنایا“ سے ادا ہوتا ہے ، لیکن ہم نے ترجمے کی رعایت سے سمیع کے معنی”سننے والا“اور بصیر کے معنی”دیکھنے والا“کیے ہیں۔ اگرچہ عربی زبان کے اِن الفاظ کا لفظی ترجمہ یہی ہے مگر ہر عربی داں جانتا ہے کہ حیوان کے لیے سمیع اور بصیر کے الفاظ کبھی استعمال نہیں ہوتے، حالانکہ وہ بھی سُننے اور دیکھنے والا ہوتا ہے۔ پس سُننے اور دیکھنے سے مراد یہاں سماعت اور بینائی کی وہ قوتیں نہیں ہیں جو حیوانات کو بھی دی گئی ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا اور پھر اس سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ علاوہ بریں سماعت اور بصارت انسان کے ذرائع علم میں چونکہ سب سے زیادہ اہم ہیں اس لیے اختصار کے طور پر صرف انہی کا ذکر کیا گیا ہے ، ورنہ اصل مراد انسان کو  وہ تمام حواس عطا کرنا ہے جن کے ذریعہ سے وہ معلومات حاصل کرتا ہے ۔ پھر انسان کو جو حواس دیے گئے ہیں وہ اپنی نوعیت میں اُن حواس سے بالکل مختلف ہیں جو حیوانات کو دیے گئے ہیں  کیونکہ اس کے ہر حاسّہ کے پیچھے ایک سوچنے والا دماغ موجود ہوتا ہے جو حواس کے ذریعہ سے آنے والی معلومات کو جمع کر کے اور ان کو ترتیب دے کر اُن سے نتائج نکالتا ہے، رائے قائم کرتا ہے، اور پھر کچھ فیصلوں پر پہنچتا ہے جن پر اس کا رویہ زندگی مبنی ہوتا ہے۔لہٰذا یہ کہنے کے بعد کہ انسان کو پیدا کر کے ہم اس کا امتحان لینا چاہتے تھے یہ ارشاد فرمانا کہ اِسی غرض کے لیے ہم نے اسے سمیع و بصیر بنایا، دراصل یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے علم اور عقل کی طاقتیں دیں تا کہ وہ امتحان دینے کے قابل ہو سکے ۔ ظا ہر ہے کہ اگر مقصود ِکلام یہ نہ ہو اور سمیع اور بصیر بنانے کا مطلب محض سماعت و بینائی کی قوتیں رکھنے والا ہی ہو تو ایک اندھا اور بہرا آدمی تو پھر امتحان سے مستثنیٰ ہو جاتا ہے، حالانکہ جب تک کوئی علم و عقل سے بالکل محروم نہ ہو، امتحان سے اس کے مستثنیٰ ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
  • [2] یہ ہے دنیا میں انسان کی، اور انسان کے لیے دنیا کی اصل حیثیت۔ وہ درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصدِ تخلیق یہیں پُورا ہو جائے۔  اور قانون فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کا کام کر کے وہ یہیں مر کر فنا ہو جائے۔ نیز یہ دنیا اُس کے لیے نہ  دارالعذاب ہے ، جیسا کہ راہب سمجھتے ہیں، نہ دارالجزا ہے جیسا کہ تَناسُخ کے قائلین سمجھتے ہیں، نہ چراگاہ اور تفریح گاہ ہے، جیسا کہ ما دّہ پرست سمجھتے ہیں، اور نہ رزم گاہ ، جیسا کہ ڈارون اور مارکس کے پیرو سمجھتے ہیں، بلکہ دراصل یہ اُس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے ۔ وہ جس چیز کو عُمر سمجھتا ہے حقیقت وہ امتحان کا وقت ہے جو اُسے یہاں دیا گیا ہے۔ دنیا میں قُوّ تیں اور صلاحیتیں بھی اس کو دی گئی ہیں، جن چیزوں  پر بھی اس کو تصرُّف کے مواقع دیے گئے ہیں، جن  حیثیتوں میں بھی وہ یہاں کام کر رہا ہے، اور جو تعلقات بھی اُس کے اور دوسرے انسانوں کے درمیان ہیں، وہ سب اصل  میں  امتحان کے بے شمار پر چے ہیں، اور زندگی کے آخری سانس تک اِس امتحان کا سلسلہ جاری ہے۔ نتیجہ اس کا دنیا میں نہیں نکلنا ہے بلکہ آخرت میں اُس کے تمام پر چوں کو جانچ کریہ فیصلہ ہونا ہے کہ وہ کامیاب ہوا ہے یا ناکام۔ اور اُس کی کامیابی و ناکامی کا سارا انحصار اس پر ہے کہ اُس نے اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہوئے یہاں کام کیا، اور کس طرح امتحان کے وہ پرچے کیے جو اُسے یہاں دیے گئے تھے۔ اگر اس نے اپنے آپ کو بے خدایا بہت سے خدا ؤں کابندہ سمجھا، اور سارے پر چے یہ سمجھتے ہوئے کیے کہ آخرت میں اسے اپنے خالق کے سامنے کوئی جو ابد ہی نہیں کر نی ہے، تو اس کا سارا کارنامہ زندگی غلط ہو گیا۔ اور اگر اس نے اپنے  آپ کو خدائے واحد کا بندہ سمجھ کر اُس طریقے پر کام کیا جو خدا کی مرضی کے مطابق ہو اور آخرت کی جوابدہی کو پیش نظر رکھا تو وہ امتحان  میں کامیاب ہوگیا،(یہ مضمون قرآن مجید میں اس کثرت کے ساتھ اور اتنی تفصیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اُن سب مقامات کا حوالہ دینا یہاں مشکل ہے۔ جو حضرات اسے پُوری طرح سمجھنا چاہتے ہوں وہ  تفہیم القرآن کی ہر جلد  کے آخر میں فہرست موضوعات کے اندر لفظ ”آزمائش“نکال کر وہ تمام مقامات دیکھ لیں جہاں قرآن میں مختلف پہلو ؤں سے اس کی وضآحت کی گئی ہے۔ قرآن کے سوا دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں یہ حقیقت اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہو)۔
  • [3] ”ایک مخلوط نُطفے“سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش مرد اور عورت کے دو الگ الگ نطفوں سے نہیں ہوئی ہے بلکہ دونوں نُطفے مل کر جب ایک ہوگئے تب اُس مُرکّب نُطفے سے انسان پیدا ہوا۔