Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Insan — Ayah 3

76:3
إِنَّا هَدَيۡنَٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٗا وَإِمَّا كَفُورًا ٣
ہم نے اُسے راستہ دکھایا ، خواہ شُکر کرنے والا بنے یا کُفر کرنے والا۔1
Footnotes
  • [1] یعنی ہم نے اسے محض علم وعقل کی قوتیں دے کر ہی نہیں چھوڑ دیا ، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کہ تا کہ اسے معلوم ہو جائے کہ شُکر کا راستہ کونسا ہے اور کُفر کا راستہ کونسا، اور اس کے بعد جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کا ذمّہ دار وہ خود ہو۔ سُورہ بَلَد میں یہی مضمون اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ۔”اور ہم نے اسے دونوں راستے (یعنی خیر وشر کے راستے)نمایاں کر کے بتا دیے۔“اور سوری شمس  میں یہی بات اِسطرح بیان کی گئی ہے وَنَفْسِ وَّمَا سَوّٰ ھَا فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا،”اور قسم ہے(انسان کے )نفس کی اور اُس ذات کی جس نے اُسے (تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ) اُستوار کیا، پھر اُس کا فُجور اور اُس کا تقویٰ دونوں اُس پر الہام کردیے“۔ اِن تمام تصریحات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے، اور ساتھ ساتھ قرآن مجید کے اُن تفصیلی بیانات کو بھی نگا ہ میں رکھا جائے جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی ٰ نے انسان کو  ہدایت کے لیے دنیا میں کیا اکیا انتظامات کیے ہیں، تو معلو م ہو جاتا ہے کہ اِس آیت میں ”راستہ دکھانے“سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدّ ونہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر: (1)      ہر انسان کو علم وعقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حِس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور بُرائی میں امتیاز کرتا ہے، بعض افعال اور اوصاف کو بُرا جانتا ہے اگر چہ وہ خود ان میں مبتلا ہو، اور بعض افعال واوصاف کو اچھا جانتا ہے۔ اگرچہ وہ خود اُن سے اجتناب کر رہا ہو۔حتٰی کہ جِن لوگوں نے اپنی اغراض و خواہشات کی خاطر ایسے فلسفے گھڑ لیے ہیں جن کی بنا پر بہت سی برائیوں کو  اُنہوں نے اپنے لیے حلال کر لیا ہے ، اُن کا حال بھی یہ ہے کہ وہی بُرائیاں اگر کوئی دوسرا اُن کے ساتھ کر ے تو وہ اُس پر چیخ اُٹھتے ہیں اور اُس وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ اپنے جُھوٹے فلسفوں  کے باوجود حقیقت میں وہ اُن کو بُرا ہی سمجھتے  ہیں ۔ اِس طرح نیک  اعمال و اوصاف کو خاہ کسی نے جہالت اور حماقت اور دقیا نوسیت ہی قرار دے رکھا ہو، لیکن جب کسی انسان سے خود اُس کی ذات کو کسی نیک سلوک کا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی فطرت قابل قدر سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ (2)      ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوّامہ) نام کی ایک  چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اُس موقع پر ٹوکتی ہے جو وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کر چکا ہو۔ اِس ضمیر  کو خواہ انسان کتنی ہی تھپکیاں دے کر سُلاے ، اور اس کو بے حِس بنا نے کی چاہے کتنی ہی کوشش کر لے، لیکن وہ اسے بالاک فنا کر دینے پر قادر نہیں ہے، وہ دنیا میں ڈھیٹ بن کر اپنے آپ کو قطعی بے ضمیر ثابت کر سکتا ہے ، وہ حجّتیں بگھار کر دنیا کو دھوکا دینے کی بھی ہر کوشش کر سکتا ہے، وہ اپنے نفس کو بھی فریب دینے کے لیے اپنے افعال کے لیے بیشمار عذرات تراش سکتا ہے، مگر اس کے باوجود اللہ نے اس کی فطرت میں جو مُحاسِب بِٹحا رکھا ہے وہ اتنا جاندار ہے کہ کسی بُرے انسان سے یہ بات چُھپی نہیں رہتی  کہ وہ حقیقت میں کیا ہے۔ یہی بات ہے جو سورہ قیامہ میں فرمائی گئی ہے کہ ”انسان خود اپنے آپ کو خوب جانتا ہے  خواہ وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے“(آیت15)۔ (3)     انسان کے اپنے وجود میں اور اُس کے گرد و پیش زمین سے لے کر آسمان تک ساری کائنات میں ہر طرف ایسی بے شمار نشانیا ں پھیلی ہوئی ہیں جو خبر دے رہی ہیں کہ یہ سب کچھ کسی خدا کے بغیر نہیں ہو سکتا ، نہ بہت سے  خدا اِس کا رخانہ ہستی کے بنانے والے اور چلانے والے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح آفاق اور  اَنْفُس کی یہی نشانیاں  قیامت اور آخرت پر بھی صریح دلالت کر ہی ہیں۔ انسان اگر ان سے آنکھیں بند کر لے ، یا اپنی عقل سے کام لے کر اِن پر غور نہ کرے ، یا جن حقائق کی نشان دہی یہ کر رہی ہیں اُن کو تسلیم کرنے سے جی چُرائے تو یہ اس کا اپنا قصُور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تو حقیقت  کی خبر دینے والے نشانات اس کے سامنے رکھ دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ (4)     انسان کی اپنی زندگی میں ،اُس کی ہم عصر دنیا میں، اور اس سے پہلے گزری ہوئی تاریخ کے تجر بات میں بے شمار واقعات ایسے پیش آتے ہیں اور آتے رہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک بالا تر حکومت اُس پر اور ساری کائنات پر فرمانروا ئی کر رہی ہے، جس کے آگے وہ بالکل بے بس ہے، جس کی مثیت پر چیز پر غالب ہے، اور جس کی مدد کا وہ محتاج ہے۔ یہ تجربات و مشاہدات صرف خارج ہی ہیں اِس حقیقت کی خبر دینے والے نہیں ہیں، بلکہ انسان کی اپنی فطرت میں بھی اُس بالا تر حکومت کے وجود کی شہادت موجود ہے جس کی بنا پر بڑے سے بڑا دہر یہ بھی بُرا وقت آنے پر خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے، اور سخت سے سخت مشرک بھی سارے جھوٹے خدا ؤں کو چھوڑ کر ایک خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ (5)      انسان کی عقل اور اس کی فطرت قطعی طور پر حکم لگاتی ہے کہ جُرم کی سزا اور عمدہ خدمات کا صلہ ملنا ضروری ہے اِسی بنا پر تو دنیا کے ہر معاشرے میں عدالت کا نظام کسی نہ کسی صورت میں قائم کیا جاتا ہے اور جن خدمات کو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے ان کا صلہ دینے کی بھی کوئی نہ کوئی شکل اختیار کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اخلاق اور قانون ِ مُکافات کے درمیان ایک ایسا لازمی تعلق ہے جس سے انکار کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اب اگر یہ مسلم ہے کہ اس دنیا میں بے شمار جرائم  ایسے ہیں جن کی پُوری سزا تو درکنار سرے سے کوئی سزا ہی نہیں دی جا سکتی، اور بے شمار خدمات بھی ایسی ہیں جن کا پورا صلہ تو کیا، کوئی صلہ بھی خدمت کرنے والے کو نہیں مل سکتا، تو آخرت کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، الّا یہ کہ کوئی بے وقوف یہ فرض کر لے، یا کوئی ہٹ دھرم یہ رائے قائم کرنے سے خالی ہے۔ اور پھر اس سوال کا جواب اُس کے ذمّہ رہ جاتا ہے کہ ایسی دنیا میں پیدا ہونے والے انسان کے اندر یہ انصاف کا تصوّر آخر آ کہاں سے گیا؟ (۶)      ان تمام ذرائع رہنمائی کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کی صریح اور واضح رہمنائی کے لیےدنیا میں انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں جن میں صاف صاف بتا دیا گیا  کہ شُکر کی راہ کونسی ہے اور کُفر کی راہ کونسی اور ان دونوں راہوں پر چلنے کے نتائج کیا ہیں۔ انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی یہ تعلیمات ، بے شمار محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے اتنے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں پھیلی ہیں کہ کوئی انسانی آبادی بھی خدا کے تصور، آخرت کے تصوّر، نیکی اور بدی کے فرق ، اور اُن کے پیش کردہ اخلاقی اصولوں اور قانونی احکام سے ناواقف نہیں رہ گئی ہے، خواہ اسے یہ معلوم ہو یا نہ ہو کہ یہ علم اُسے انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی تعلیمات ہی سے حاصل ہوا ہے۔ آج جو لوگ انبیاء اور کتابوں کے منکر ہیں، یا ان سے بالکل بے خبر ہیں ، وہ بھی اُن بہت سی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں جو دراصل اُنہی کی تعلیمات سے چَھن چَھن کر اُن تک پہنچتی ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ اِن چیزوں کا اصل ماخذ کونسا ہے۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]