Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naba — Ayah 3

78:3
ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ مُخۡتَلِفُونَ ٣
جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟1
Footnotes
  • [1] بڑی خبر سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے جس کو اَہلِ مکہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سنتے تھے ، پھر ہر محفل میں اس پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہوتی تھیں۔ پُوچھ گچھ سے مُراد یہی چہ میگوئیاں ہیں۔ لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ بھائی، کبھی پہلے بھی تم  نے سُنا ہے کہ مر کے کوئی دوبارہ زندہ ہوگا؟ کیا یہ ماننے کے قابل بات ہے کہ گل سڑکر جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو چکی ہیں ان میں نئے سرے سے جان پڑے گی؟ کیا عقل میں یہ بات سماتی ہے کہ اگلی پچھلی ساری نسلیں اُٹھ کر ایک جگہ جمع ہوں گی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بڑے بڑے جمے ہوئے پہاڑ ہوا میں روئی  کے گالوں کی طرح اُڑنے لگیں گے ؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ چاند سورج اور تارے سب بُجھ کر رہ جائیں اور دنیا کا یہ سارا جما جما یا نظام اُلٹ پلٹ ہوجائے؟ یہ صاحب جو کل تک اچھے خاصے دانا آدمی تھے آج انہیں یہ کیا ہو گیا ہے کہ ہمیں ایسی عجیب اَنہونی خبریں سُنارہے ہیں ۔ یہ جنّت  اور یہ دوزخ آخر پہلے کہاں تھیں جن کا ذکر ہم نے کبھی اِن کی زبان سے نہ سُنا تھا؟ اب یہ ایک دم کہاں سے نکل آئی ہیں کہ اِنہوں نے اُن کو عجیب و غریب نقشے ہمارے سامنے کھینچنے شروع کر دیے ہیں؟           ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ”وہ اس کے بارے میں مختلف چہ میگوئیاں کر رہے ہیں“، دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتاہے کہ دنیا کے انجام کے بارے میں یہ لوگ خود بھی کوئی ایک متفق علیہ عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ” ان کے درمیان اس کے متعلق مختلف خیالات پائے جاتے ہیں“۔ اُن میں سے کوئی عیسائیوں کے خیالات سے متاثر تھا اور زندگی بعدِ موت کو مانتا تھا مگر یہ سمجھتا تھا کہ وہ دوسری زندگی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوگی۔کوئی آخرت کا قطعی مُنکر نہ تھا مگر اسے شک تھا کہ وہ ہو سکتی ہے یا نہیں ، چنانچہ قرآن مجید ہی میں اس خیال کے لوگوں کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اِنْ نّظُنَّ اِلّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ،”ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم کو نہیں ہے“(الجاثیہ آیت31)، او ر کوئی بالکل صاف صاف کہتا تھا کہ اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَا تُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ، ”جو کچھ بھی ہے بس ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم ہر گز مرنے کے بعد دوبارہ نہ اُٹھائے جائیں گے“(الانعام۔آیت29)۔ پھر کچھ لوگ ان میں سے دہریے تھے اور کہتے تھے کہ مَا ھِیَ اِلَّا حَیَا تُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَمَا یُھْلِکْنَا اِلَّا الدَّھْرُ،”زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیزنہیں جو ہمیں ہلاک کر تی ہو“(الجاثیہ۔24)۔ اور کچھ دوسرے لوگ دہریے تو نہ تھے مگر دوسری زندگی کو نا ممکن قرار دیتے تھے، یعنی ان کے نزدیک یہ خدا کی قدرت سے خارج تھا کہ وہ مرے ہوئے انسانوں کو پھر سے زندہ کر سکے۔ ان کا قول تھا مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ،”کون اِن ہڈیوں کو زندہ کر ے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟“(یٰس۔78)۔ یہ اُن کے مختلف اقوال خود ہی اس بات کا ثبوت تھے کہ ان کے پاس اِس مسئلے میں کوئی علم نہ تھا، بلکہ وہ محض گمان و قیاس کے تیر تُکّے چلا رہے تھے،ورنہ علم ہوتا تو سب کسی ایک بات کے قائل ہوتے (مزید تشریح  کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد پنجم، الذاریات،حاشیہ۶)۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]