Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ad-Duhaa — Ayah 3

93:3
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ٣
(اے نبیؐ) تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔1
Footnotes
  • [1] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول بند رہا تھا۔ مختلف روایات میں یہ مدّت مختلف بیان کی گئی ہے۔ ابن جُرَیج نے 12 روز ، کَلْبِی نے 15 روز، ابن عباس ؓ نے 25 روز، سُدِّی اور مُقاتِل نے 4۰ روز اس کی مدّت بیان کی ہے۔  بہرحال یہ زمانہ اِتنا طویل تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اِس پر سخت غمگین ہوگئے تھے اور مخالفین بھی آپ کو طعنے دینے لگے تھے ، کیونکہ حضور ؐ پر جو نئی سورت نازل ہوتی تھی اسے آپ ؐ لوگوں کو سنایا کرتے تھے، اس لیے جب اچھی خاصی مدت تک آپ ؐ نے کوئی نئی وحی لوگوں کو نہیں سُنائی  تو مخالفین نے سمجھ لیا کہ وہ سرچشمہ بند ہو گیا ہے جہاں سے یہ کلام آتا تھا۔ جُنْدُب بن عبد اللہ البَجَلی کی روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام کے آنے کا سلسلہ رک گیا تو مشرکین نے کہنا شروع کر دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اُن کے ربّ نے چھوڑ دیا ہے( ابن جریر ، طَبَرانی، عبد بن حُمَید، سعید بن منصور، ابن مَرْ دُوْیَہ)۔ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو لہب کی بیوی امّ جمیل نے، جو حضور ؐ کی چچی ہوتی تھی اور جس کا گھر حضور ؐ  کے مکان سے متصل تھا، آپ سے کہا ”معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے“۔ عَو فی اور ابن جریر نے ابن عبار ؓ  کی روایت نقل کی ہے کہ کئی روز تک جبریل کی آمد رُک جانے سے حضور ؐ  پریشان ہو گئے اور مشرکین کہنے لگے کہ ان کا رب ان سے ناراض ہو گیا ہے اور اس نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۔ قَتَادہ اور ضَحّاک کی مُرْسَل روایات میں بھی قریب قریب یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اِس صورت حال میں حضور ؐ کے شدید رنج  و غم کا حال بھی متعدد روایات میں آیا ہے ۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ محبوب کی طرف سے بظاہر عدمِ التفات ، کفر و ایمان کے درمیان جنگ چھڑ جانے کے بعد اُسی ذریعۂ طاقت سے بظاہر محرومی جو اس جاں گُسِل کشمکش کے منجدھار میں آپ ؐ  کے لیے واحد سہارا تھا، اور اُس پر مزید دشمنوں کی شَماتَت ، یہ ساری چیزیں مل جل کر لا محالہ حضور ؐ کے لیے سخت پریشانی کا موجب ہو رہی ہوں گی اور آپ ؐ کو بار بار یہ شبہ گزرتا ہو گا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں  ہو گیا ہے کہ میرا ربّ مجھ سے ناراض ہو گیا ہو اور اس نے مجھے حق و باطل کی اِس لڑائی میں تنہا چھوڑ دیا ہو۔ اِسی کیفیت  میں یہ سورۃ حضور ؐ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔ اِس میں دن کی روشنی اور رات کے سکون کی قسم کھا کر حضور ؓ سے فرمایا گیا  کہ تمہارے  ربّ نے نہ تمہیں چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔ اِس بات پر ان دونوں چیزوں کی قسم جس مناسبت سے کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح دن کا روشن ہونا اور رات کا تاریکی اور سکون لیے ہوئے چھا جانا کچھ اِس بنا پر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ دن کے وقت لوگوں سے خوش اور رات کے وقت اُن سے ناراض ہو جاتا ہے، بلکہ یہ دونوں حالتیں ایک عظیم حکمت و مصلحت کے تحت طاری ہوتی ہیں، اُسی طرح تم پر کبھی وحی بھیجنا اور کبھی اُس کو روک لینا  بھی حکمت و مصلحت کی بنا پر ہے، اِس کو کوئی تعلق اِس بات سے نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ  تم سے خوش ہو تو وحی بھیجے، اور جب وہ وحی نہ بھیجے تو اس کے معنی یہ ہوں کہ وہ تم سے ناخوش ہے اور اس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری مناسبت اِس مضمون سے اِس قَسم کی یہ ہے کہ جس طرح دن کی روشنی اگر مسلسل آدمی پر طاری رہے تو وہ اسے تھکا دے، اس لیے ایک وقتِ خاص تک دن  کے روشن رہنے کے بعد رات کا آنا ضروری ہے تاکہ اس میں انسان کو سکون ملے ، اُسی طرح وحی کی روشنی اگر تم پر پے درپے پڑتی رہے تو تمہارے اعصاب اس کو برداشت نہ کر سکیں گے ، اس لیے وقتًا فوقتًا فَتْرۃ (نزول ِ وحی کا سلسلہ رک جانے) کا ایک زمانہ  بھی اللہ تعالیٰ نے مصلحت کی بنا پر رکھا ہے تاکہ وحی کے نزول سے جو بار تم پر پڑتا ہے اس کے اثرات زائل ہو جائیں اور تمہیں سکون حاصل ہو جائے۔ گویا آفتابِ وحی کا طلوع بمنزلۂ روز روشن ہے اور زمانۂ فَتْرۃ بمنزلۂ سکونِ شب۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]