Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah At-Tin — Ayah 1

95:1
وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيۡتُونِ ١
قسم ہے انجیر اور زیتون کی1
Footnotes
  • [1] اِس کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہوا ہے۔ حسن بصری، عِکْرِمہ، عطا ء بن ابی رَبَاح، جابر بن زید، مجاہد اور ابراہیم نَخَعی رحمہم اللہ کے انجیر سے مراد یہی انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور زیتون بھی یہی زیتون ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے۔ ابنِ ابی حاتم اور حاکم نے ایک قول حضرت عبداللہ ؓ  بن عباس سے بھی اس کی تائید میں نقل کیا ہے اور جن مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے انہوں نے انجیر اور زیتون کے خواص اور فوائد بیان کر کے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی خوبیوں کی وجہ سے اِن دونوں پھلوں کی قسم کھائی ہے ۔ اِس میں شک نہیں کہ ایک عام عربی داں تین اور  زیتون کے الفاظ سُن کر وہی معنی لے گا جو عربی زبان میں معروف ہیں۔ لیکن دو وجوہ ایسے ہیں جو یہ معنی لینے میں مانع ہیں۔ ایک یہ کہ آگے طورِ سینا اور شہرِ مکّہ کی قسم کھائی گئی ہے، اور دوپھلوں کے ساتھ دو مقامات کی قسم کھانے میں کوئی مناسبت نظر نہیں آتی۔ دوسرے اِن چار چیزوں کی قسم کھا کر آگے جو مضمون بیان کیا گیا ہے اُس پر طورِ سینا اور شہرِ مکّہ تو دلالت کرتے ہیں، لیکن یہ دو پھل اُس پر دلالت نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں بھی کسی چیز کی قسم کھائی ہے ، اُس کی عظمت یا اُس کے منافع کی بنا پر نہیں کھائی، بلکہ ہر قسم اُس مضمون پر دلالت کرتی ہے جو قسم کھانے کے بعد بیان کیا گیا ہے۔ اِس لیے اِن دونوں پھلوں کے خواص کی وجہ قسم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بعض دوسرے مفسرین نے تین اور زیتون سے مراد بعض مقامات لیے ہیں ۔ کَعْبِ اَحبار، قَتادہ اور ابنِ زید کہتے ہیں تین سے مراد دمشق ہے اور زیتون سے مراد بیت المقدس۔ ابنِ عباس ؓ کا ایک قول  ابن جریر، ابنِ ابی حاتم اور ابنِ مردویہ نے یہ نقل کیا ہے کہ تین سے مراد حضرت نوح ؑ کی وہ مسجد ہے جو انہوں نے جُودی پہاڑ پر بنائی تھی اور زیتون سے مراد بیت المقدس ہے۔ لیکن وَالتِّیْنِ و َالزَّیْتُوْنِ کے الفاظ سُن کر یہ معنی ایک عام عرب کے ذہن میں نہیں آسکتے تھے اور نہ یہ بات قرآن کے مخاطب اہلِ عرب میں معروف تھی کہ تین اور زیتون اِن مقامات کے نام ہیں۔ البتہ یہ طریقہ اہلِ عرب میں رائج تھا کہ جو پھل کسی علاقے میں کثرت پیدا ہوتا ہے اُس علاقے کو وہ بسا اوقات اُس پھل کے نام سے موسوم کر دیتے تھے۔ اِس محاورے کے لحاظ سے تین اور زیتون کے الفاظ کا مطلب مَنابتِ تین و زیتون ، یعنی اِن پھلوں کی پیداوار کا علاقہ ہو سکتا ہے، اور شام و  فلسطین کا علاقہ ہے ، کیونکہ اُس زمانے کے اہلِ عرب میں یہی علاقہ انجیر و زیتون کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔ ابنِ تیمیہ ، ابنِ القَیِّم، زَمَحْشَری اور آلُوسی رحمہم اللہ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے ۔ اور ابن جریر نے بھی اگرچہ پہلے قول کو ترجیح دی ہے، مگر اِس کے ساتھ یہ بات تسلیم کی ہے کہ تین اور زیتون سے مراد ان پھلوں کی پیداوار  کا علاقہ بھی ہو سکتا ہے۔ حافظ ابنِ کثیر نے بھی اِس تفسیر کو قابل لحاظ سمجھا ہے۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]