Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Az-Zalzalah — Ayah 6

99:6
يَوۡمَئِذٖ يَصۡدُرُ ٱلنَّاسُ أَشۡتَاتٗا لِّيُرَوۡاْ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٦
اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے1 تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔2
Footnotes
  • [1] ا س کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اُن کو اُن کے اَعمال دکھائے جائیں ، یعنی ہر ایک کو بتا یا جائے کہ وہ دنیا میں کیا کر کے آیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اُن کو ان کے اعمال کی جزاع دکھائی جائے۔ اگرچہ یہ دوسرے معنی بھی لِیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ کے لیے جا سکتے ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے لِیُرَوْ ا  جَزَآءَ اَعْمَالِہِمْ (تاکہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے) نہیں فرمایا ہے بلکہ لِیُرَوْ ا اَعْمَا لَہُمْ (تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں) فرمایا ہے۔ اس لیے پہلے معنی ہی قابل ترجیح ہیں ، خصوصًا جبکہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اِس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ کافر و مومن ، صالح و فاسق، تابعِ فرمان اور نافرمان، سب کو اُن کے نامۂ اعمال ضرور دیے جائیں گے (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو  الحاقَّہ، آیات19 و 25،  اور الانشقاق، آیات 7 و 1۰)۔ ظاہر ہے کہ کسی کو اُس کے اعمال دکھانے، اور اس کا نامۂ اعمال اس کے حوالہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ علاوہ بریں زمین جب اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات پیش کرے گی تو حق و باطل کی وہ کشمکش جو ابتدا سے برپا ہے اور قیامت تک برپا رہے گی، اُس کا پورا نقشہ بھی سب سے سامنے  آجائے گا، اور اس میں سب ہی دیکھ لیں گے کہ حق کے لیے کام کرنے والوں نے کیا کچھ کیا ، اور باطل کی حمایت کرنے والوں نے ان کے مقابلہ میں کیا کیا حرکتیں کیں۔ بعید نہیں کہ ہدایت کی طرف بلانے والوں اور ضلالت پھیلانے والوں کی ساری تقریریں اور گفتگوئیں لوگ اپنے کانوں سے سن لیں۔ دونوں طرف کی تحریروں اور لٹریچر کا پورا ریکارڈ جوں کا توں سب کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے ۔ حق پرستوں پر باطل پرستوں کے ظلم، اور دونوں گروہوں کے درمیان برپا ہونے والے معرکوں کے سارے مناظر میدانِ حشر کے حاضرین اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔
  • [2] اس کے دومعنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر  ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہو گا، خاندان ، جتھّے، پارٹیاں، قومیں، سب بکھر جائیں گی۔ یہ بات قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی فرمائی گئی ہے ۔ مثلًا سورۂ انعام میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس روز لوگوں سے فرمائے گا کہ  ” لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہو گئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا“(آیت94)۔ اور سورۂ مریم میں فرمایا  ”یہ اکیلا ہمارے پس آئے گا“(آیت8۰) اور یہ کہ ”اِن میں سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہو گا“(آیت 95)۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ہزار ہا برس کے دوران میں جگہ جگہ مرے تھے، زمین کے گوشے گوشے سے گروہ در گروہ چلے آرہے ہو ں گے، جیسا کہ سورۂ نباء میں فرمایا گیا ”جس روز صور میں پھونک مار دی  جائے گی تم فوج در فوج آجاؤگے“(آیت 18)۔ اس کے علاوہ جو مطلب مختلف مفسّرین نے بیان کیے ہیں اُن کی گنجائش لفظ اَشْتَا تًا میں نہیں ہے، اس لیے ہمارے نزدیک وہ اِس لفظ کے معنوی حدود سے باہر ہیں، اگرچہ بجائے خود صحیح ہیں اور قرآن  و حدیث  کے بیان کردہ احوالِ قیامت سے مطابقت رکھتے ہیں۔