Maulana Muhammad Junagarhi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Maulana Muhammad Junagarhi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 4

28:4
إِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلَ أَهۡلَهَا شِيَعٗا يَسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَةٗ مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ٤
یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی1 اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا2 اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا3 اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا4 اور ان کی لڑکیوں کو زنده چھوڑ دیتا تھا۔ بیشک وشبہ وه تھا ہی مفسدوں میں سے.
Footnotes
  • [1] اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جو اس وقت کی افضل ترین قوم تھی لیکن ابتلا وآزمائش کے طور پر فرعون کی غلام اور اس کی ستم رانیوں کا تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔
  • [2] یعنی ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اپنے کو بڑا معبود کہلاتا تھا۔
  • [3] جن کے ذمے الگ الگ کام اور ڈیوٹیاں تھیں۔
  • [4] جس کی وجہ بعض نجومیوں کی یہ پیش گوئی تھی کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک بچے کے ہاتھوں فرعون کی ہلاکت اور اس کی سلطنت کا خاتمہ ہوگا۔ جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ ہر پیدا ہونے والا اسرائیلی بچہ قتل کر دیا جائے۔ حالانکہ اس احمق نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کاﮨﻦ سچا ہے تو ایسا یقیناً ہوکر رہے گا چاہے وہ بچے قتل کرواتا رہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہے تو قتل کروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ (فتح القدیر) بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی طرف سے یہ خوشخبری منتقل ہوتی چلی آرہی تھی کہ ان کی نسل سے ایک بچہ ہوگا جس کے ہاتھوں سلطنت مصر کی تباہی ہوگی۔ قبطیوں نے یہ بشارت بنی اسرائیل سے سنی اور فرعون کو اس سے آگاہ کر دیا جس پر اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو مروانا شروع کر دیا۔ (ابن کثیر)