Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan)

Multiple Ayahs

Tags

Download Links

Tazkirul Quran(Maulana Wahiduddin Khan) tafsir for Surah Al-Ahzab — Ayah 64

يَسۡـَٔلُكَ ٱلنَّاسُ عَنِ ٱلسَّاعَةِۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِۚ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا ٦٣ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمۡ سَعِيرًا ٦٤ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ لَّا يَجِدُونَ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا ٦٥ يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ يَقُولُونَ يَٰلَيۡتَنَآ أَطَعۡنَا ٱللَّهَ وَأَطَعۡنَا ٱلرَّسُولَا۠ ٦٦ وَقَالُواْ رَبَّنَآ إِنَّآ أَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَأَضَلُّونَا ٱلسَّبِيلَا۠ ٦٧ رَبَّنَآ ءَاتِهِمۡ ضِعۡفَيۡنِ مِنَ ٱلۡعَذَابِ وَٱلۡعَنۡهُمۡ لَعۡنٗا كَبِيرٗا ٦٨

قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔

ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔