Tafsir As-Saadi
10:3 - 10:4

بے شک تمھارا رب وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ، پھر مستوی ہو گیا اوپر عرش کے، وہ تدبیرکرتا ہے (ہر) کام کی، نہیں ہے کوئی سفارشی مگر بعد اس کی اجازت کے، یہی ہے اللہ تمھارا رب، سو تم عبادت کرو اسی کی، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (3)اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو، وعدہ ہے اللہ کا سچا، بلاشبہ وہی پہلی بار پیدا کرتا مخلوق کو، پھر وہی دوبارہ زندہ کرے گا اس کوتاکہ وہ جزا دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، ساتھ انصاف کےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا واسطے ان کے پینا ہو گا کھولتے ہوئے پانی سے اور عذاب ہو گا دردناک بہ سبب اس کے جو تھے وہ کفر کرتے(4)

[3] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ربوبیت، الوہیت اور عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَ يَّامٍ ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا‘‘ اس کے باوجود کہ وہ زمین و آسمان کو ایک لحظہ میں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ مگر حکمت الٰہی انھیں اسی طرح تخلیق کرنے میں تھی۔ وہ اپنے افعال میں بہت نرم اور مہربان ہے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ اس نے کائنات کو حق کے ساتھ اور حق کے لیے پیدا کیا تاکہ اس کے اسماء و صفات کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہو نیز یہ کہ وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد ﴿ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ مستوی ہوا عرش پر۔‘‘ وہ استواء ایسا ہے جو اس کی عظمت کے لائق ہے ﴿ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ﴾’’وہ معاملے کا انتظام کرتا ہے۔‘‘ یعنی وہ عالم علوی اور عالم سفلی کے تمام معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ موت دینا، زندہ کرنا، رزق نازل کرنا، لوگوں کے درمیان گردش ایام، ضرر رسیدہ لوگوں سے تکلیف دور کرنا اور سوال کرنے والوں کی ضرورت پوری کرنا۔ پس مختلف انواع کی تمام تدابیر اسی کی طرف سے نازل ہوتی ہیں اور اسی کی طرف بلند ہوتی ہیں ۔ تمام کائنات اس کے غلبہ کے سامنے مطیع اور اس کی عظمت اور طاقت کے سامنے سرافگندہ ہے۔﴿ مَا مِنۡ شَفِيۡعٍ اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ اِذۡنِهٖ ﴾’’کوئی سفارش نہیں کر سکتا مگر اس کی اجازت کے بعد‘‘ جب تک اللہ تعالیٰ اجازت نہ دے کوئی شخص... خواہ وہ مخلوق میں سب سے افضل ہستی ہی کیوں نہ ہو... اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کی سفارش کے لیے آگے نہیں بڑھے گا اور وہ صرف اسی کے لیے سفارش کرے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ خود پسند کرے گا اور وہ صرف انھی کو پسند کرے گا جو اہل اخلاص اور اہل توحید ہوں گے۔﴿ ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہی‘‘ وہ ہستی جس کی یہ شان ہے ﴿ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ﴾ ’’اللہ ہے، تمھارا رب‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اوصاف الوہیت اور صفات کمال کی جامع، اوصاف ربوبیت اور صفات افعال کی جامع ہے ﴿ فَاعۡبُدُوۡهُ﴾ ’’پس تم اسی کی بندگی کرو‘‘ یعنی عبودیت کی وہ تمام اقسام جن کو بجا لانے پر تم قادر ہو، صرف اس اکیلے کے لیے مخصوص کرو۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَؔ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے‘‘ کیا تم ان دلائل سے نصیحت حاصل نہیں کرتے جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ واحد معبود حمد و ثناء کا مستحق اور جلال و اکرام کا مالک ہے۔
[4] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم کونی و قدری، یعنی تدبیر عام اور اپنے حکم دینی یعنی اپنی شریعت، جس کا مضمون اور مقصود صرف اسی کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں ، کا ذکر فرمایا تو اپنے حکم جزائی کا ذکر بھی فرمایا، یعنی انسان کے مرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کی جزا دینا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے‘‘ یعنی وہ تمھارے مرنے کے بعد ایک مقررہ وقت پر تم سب کو جمع کرے گا ﴿ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا﴾ ’’اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا ہونا لابدی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ ﴾ ’’وہی پیدا کرتا ہے پہلی بار، پھر دوبارہ پیدا کرے گا اس کو‘‘ پس جو تخلیق کی ابتدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ اس کے اعادے پر بھی قادر ہے، لہٰذا وہ شخص جو ابتدائے تخلیق کو تسلیم کرتا ہے پھر وہ اعادۂ تخلیق کا انکار کر دیتا ہے، عقل سے عاری ہے جو دو مماثل اشیاء میں سے ایک کا انکار کرتا ہے حالانکہ وہ اس تخلیق کا اقرار کر چکا ہے جو زیادہ مشکل ہے... یہ زندگی بعد موت کی نہایت واضح عقلی دلیل ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقلی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے‘‘ جو صدق دل سے ان تمام امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل کیے نیک‘‘ وہ اپنے جوارح کے ذریعے سے واجبات و مستحبات پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ ان کے ایمان و اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ جزا اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دی ہے اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ یہ ایسی جزا ہے کہ کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ اس جزا میں اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسول کی تکذیب کی۔ ﴿ لَهُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍ ﴾ ’’ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی ہوگا۔‘‘ جو چہروں کو جھلسا کر رکھ دے گا اور انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ ﴿ وَّعَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور دردناک عذاب‘‘ انھیں دردناک عذاب کی تمام اصناف میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اس لیے کہ وہ کفر کرتے تھے‘‘ یعنی یہ عذاب ان کے کفر اور ظلم کے سبب سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔