Tafsir As-Saadi
10:9 - 10:10

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، رہنمائی کرے گا ان کی ان کا رب (جنت کی طرف)، بوجہ ان کے ایمان کے، بہتی ہوں گی نیچے ان کے نہریں ، نعمتوں والے باغات میں (9)پکارنا ان کا ہو گا ان میں ، پاک ہے تو اللہ! اور دعا ان کی ہو گی ان میں سلام اور آخری پکار ہو گی ان کی یہ کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو پالنے والا ہے سارے جہانوں کا (10)

[9]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی انھوں نے ایمان اور ایمان کے تقاضے کو جمع کیا یعنی ایمان لانے کے بعد اخلاص اور اتباع کے ساتھ اعمال صالحہ بجا لائے جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ يَهۡدِيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِـاِيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’ہدایت کرے گا ان کو ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے سرمایۂ ایمان کے سبب سے انھیں سب سے بڑا ثواب یعنی ہدایت عطا کرتا ہے۔ انھیں وہ علم عطا کرتا ہے جو ان کے لیے نفع مند ہے، وہ انھیں ان اعمال سے نوازتا ہے جو ہدایت سے جنم لیتے ہیں ۔ وہ اپنی آیات میں غور و فکر کرنے کے لیے ان کی راہ نمائی کرتا ہے، اس دنیا میں انھیں راہ راست دکھاتا ہے اور آخرت میں ان کو اس راستے پر گامزن کرتا ہے جو جنت کو جاتا ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ یعنی ہمیشہ بہنے والی نہریں ﴿ فِيۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴾ ’’نعمت والے باغوں میں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے جنت کو (نَعِیم) ’’نعمتوں والی‘‘ کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ جنت ہر طرح سے کامل نعمتوں پر مشتمل ہوگی۔ قلب کو فرحت و سرور، تروتازگی، اللہ رحمن کا دیدار، اس کے کلام کا سماع، اس کی رضا اور قرب کے حصول کی خوشی، دوستوں اور بھائیوں سے ملاقاتوں ، ان کے ساتھ اکٹھے ہونے، طرب انگیز آوازوں ، مسحور کن نغمات اور خوش کن مناظر کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ بدن کو مختلف انواع کے ماکولات و مشروبات اور بیویاں وغیرہ عطا ہوں گی جو انسان کے علم سے باہر ہیں جن کے بارے میں انسان تصور تک نہیں کر سکتا اور نہ کوئی اس کا وصف بیان کر سکتا ہے۔
[10]﴿دَعۡوٰىهُمۡ فِيۡهَا سُبۡحٰؔنَكَ اللّٰهُمَّ﴾’’اس میں ان کی پکار ہو گی، اے اللہ تو پاک ہے‘‘ یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اولین چیز تمام نقائص سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ ہوگی اور آخر میں اس کے لیے حمد و ثنا۔ دارالجزا میں ان سے تمام تکالیف ساقط ہو جائیں گی۔ ان کے لیے سب سے بڑی لذت، جو لذیذ ترین ماکولات سے بھی زیادہ لذیذ ہوگی اور وہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا ذکر، جس سے دل مطمئن اور روح خوش ہوگی اور ذکر الٰہی کی حیثیت ان کے لیے وہی ہوگی جو کسی متنفس کے لیے سانس کی ہوتی ہے مگر کسی کلفت اور مشقت کے بغیر۔﴿ وَتَحِيَّتُهُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’اور اس میں ان کی دعائے ملاقات‘‘ یعنی ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کے وقت ایک دوسرے کو﴿ سَلٰمٌ﴾’’سلام ہوگی‘‘ یعنی وہ سلام کہہ کر ایک دوسرے کو خوش آمدید کہیں گے، یعنی ان کی باہم گفتگو لغویات اور گناہ کی باتوں سے پاک ہو گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿دَعۡوٰىهُمۡ فِيۡهَا سُبۡحٰؔنَكَ ... ﴾ الآیۃ کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اہل جنت جب کھانے پینے کی حاجت محسوس کریں گے تو کہیں گے ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ اللّٰهُمَّ﴾ اور ان کے سامنے اسی وقت کھانا حاضر کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَاٰخِرُ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی آخری بات۔‘‘ جب وہ کھانے سے فارغ ہوں گے تو کہیں گے ﴿ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔‘‘