Tafsir As-Saadi
10:12 - 10:12

اور جب پہنچتی ہے انسان کو تکلیف تو وہ پکارتا ہے ہمیں اپنے پہلو پر (لیٹے ہوئے) یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے، پھر جب کھول دیتے ہیں ہم اس سے تکلیف اس کی تو (یوں ) گزر جاتا ہے وہ گویا کہ نہیں پکارا تھا اس نے ہمیں اس تکلیف کے (ہٹانے) کے لیے جو اسے پہنچی تھی، اسی طرح مزین کر دیے گئے واسطے حد سے گزرنے والوں کے جو تھے وہ (برے) عمل کرتے (12)

[12] اس میں انسان کی فطرت کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ جب اسے کسی مرض یا مصیبت کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو خوب دعائیں کرتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے، اپنی دعاؤں میں گڑگڑاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دے۔ ﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنۡ لَّمۡ يَدۡعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّؔ مَّسَّهٗ﴾ ’’پس جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو وہ (یوں ) چلا جاتا ہے گویا کہ اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچنے پر پکارا ہی نہیں ‘‘ یعنی اپنے رب سے روگردانی کرتے ہوئے غفلت میں مستغرق رہتا ہے گویا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہیں آئی، جسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہو۔ اس سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہے کہ انسان اپنی غرض پوری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور جب اللہ تعالیٰ اس کی یہ غرض پوری کر دے تو پھر وہ اپنے رب کے حقوق کی طرف نہ دیکھے، گویا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا کوئی حق ہی نہیں ۔ یہ شیطان کا آراستہ کرنا ہے۔ شیطان ان تمام چیزوں کو مزین کرتا ہے جو انسانی عقل و فطرت کے مطابق انتہائی بری اور قبیح ہیں ۔ ﴿ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠ ﴾ ’’اسی طرح خوش نما بنا دیے گئے ہیں بے باک لوگوں کے لیے‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں ﴿ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو عمل وہ کرتے تھے۔‘‘