Tafsir As-Saadi
10:108 - 10:109

کہہ دیجیے، اے لوگو! یقینا آ گیا ہے تمھارے پاس حق (قرآن) تمھارے رب کی طرف سے ، پس جس شخص نے ہدایت کو اپنایا تو یقینا وہ ہدایت کو اپنائے گا اپنے ہی نفس کے لیے اور جس نے گمراہی اختیار کی تو یقینا وہ گمراہی اختیار کرے گا اپنے ہی نفس کے برے کواور نہیں ہوں میں تم پر نگران (108) اور پیروی کریں آپ اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف اور صبر کریں یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ اور وہ سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(109)

[108] بنابریں ، جب اللہ تعالیٰ نے واضح دلیل بیان کردی تو اس کے بعد فرمایا:﴿ قُلۡ ﴾ چونکہ دلیل و برہان واضح ہوگئی اس لیے اے رسول فرما دیجیے! ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’اے لوگو! تمھارے رب کے ہاں سے تمھارے پاس حق آچکا ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس سچی خبر آگئی ہے جس کی تائید دلائل و براہین سے ہوتی ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی کوئی شک نہیں اور یہ خبر تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے پہنچی ہے، جس کی تمھارے لیے سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے تم پر یہ قرآن نازل کیا، جو ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے یہ قرآن مختلف انواع کے احکام، مطالب الہیہ اور اخلاق حسنہ پر مشتمل ہے جن میں تمھاری تربیت کا بہترین سامان موجود ہے۔ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ پس گمراہی سے ہدایت کا راستہ واضح ہوگیا اور کسی کے لیے کوئی شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اب جو کوئی راہ پر آئے‘‘ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے ذریعے سے راہ ہدایت اپنا لی۔ وہ یوں کہ اس نے حق معلوم کر لیا اور پھر اسے اچھی طرح سمجھ لیا اور دیگر ہر چیز پر اسے ترجیح دی ﴿ فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے نیاز ہے۔ بندوں کے اعمال کے ثمرات انھی کی طرف لوٹتے ہیں ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ ﴾ ’’اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو حق کے علم یا اس پر عمل سے روگردانی کر کے ہدایت کی راہ سے بھٹک جائے ﴿ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا﴾’’تو وہ بہکا پھرے گا اپنے برے کو‘‘ یعنی وہ اپنے لیے گمراہی اختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔﴿ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ﴾ ’’اور میں تم پر داروغہ نہیں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور ان کا حساب کتاب رکھوں ۔ میں تو تمھیں کھلا ڈرانے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمھارا نگران اور وکیل ہے۔ جب تک تم اس مہلت کی مدت میں ہو، اپنے آپ پر نظر رکھو۔
[109]﴿وَاتَّبِـعۡ ﴾ ’’اور پیروی کیے جاؤ۔‘‘ اے رسول! ﴿ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ ﴾ ’’اس کی جو حکم آپ کی طرف بھیجا جاتا ہے۔‘‘ یعنی علم، عمل، حال اور دعوت میں اس وحی کی اتباع کیجیے جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ﴿ وَاصۡبِرۡ ﴾ ’’اور (اس پر)صبر کیجیے‘‘ کیونکہ یہ صبر کی بلند ترین نوع ہے اور اس کا انجام بھی قابل ستائش ہے۔ سستی اور کسل مندی کا شکار ہوں ، نہ تنگ دل ہوں بلکہ اس پر قائم و دائم اور ثابت قدم رہیں ۔﴿ حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے درمیان اور آپ کی تکذیب کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ ﴿ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ کیونکہ اس کا فیصلہ کامل عدل و انصاف پر مبنی ہے جو قابل تعریف ہے۔نبی کریمﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور صراط مستقیم پر قائم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دیا۔ آپ کو آپ کے دشمنوں کے مقابلے میں دلائل و براہین کے ذریعے سے نصرت عطا کرنے کے بعد شمشیر و سناں کے ذریعے سے فتح و نصرت سے نوازا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے ہر قسم کی حمد و ستائش اور ثنائے حسن جیسا کہ اس کی عظمت و جلال، اس کے کمال اور اس کے بے پایاں احسان کے لائق ہے۔