اورآپ قائم کریں نمازدونوں طرفوں (حصوں ) میں دن کے اورکچھ گھڑیوں میں رات سے بھی، بلاشبہ نیکیاں دور کر دیتی ہیں برائیوں کو، یہ نصیحت ہے واسطے ذکر کرنے والوں کے (114) اور آپ صبر کریں ، پس بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنے والوں کا (115)
[114] اللہ تبارک و تعالیٰ کامل طور پر نماز کو قائم کرنے کا حکم دیتا ہے ﴿طَرَفَيِ النَّهَارِ ﴾ ’’دن کے دونوں طرفوں میں ‘‘ یعنی دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں ۔ اس میں فجر، ظہر اور عصر کی نماز شامل ہے۔ ﴿ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيۡلِ﴾ ’’اور رات کے کچھ حصوں میں ‘‘ اور اس میں مغرب اور عشاء کی نماز داخل ہے۔ تہجد کی نماز بھی اسی میں شامل ہے کیونکہ بندۂ مومن تہجد کی نماز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾ ’’بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو‘‘ یعنی یہ نماز پنجگانہ اور اس سے ملحق نوافل سب سے بڑی نیکی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کہ نماز سب سے بڑی نیکی اور ثواب کی موجب ہے… برائیوں کو مٹاتی بھی ہے۔ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جیسا کہ صحیح احادیث میں اس اطلاق کو مقید کیا گیا ہے، مثلاً:رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’اگر مومن کبائر سے اجتناب کرتا ہے تو نماز پنج گانہ، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، یہ ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو مٹا دینے والے عمل ہیں ۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس… الخ، حدیث: 233) بلکہ اس آیت کریمہ کے اطلاق کو سورۃ النساء کی اس آیت نے بھی مقید کر دیا ہے فرمایا: ﴿ اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبَآىِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَـفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُمۡ مُّؔدۡخَلًا كَرِيۡمًا ﴾(النساء: 4؍31) ’’اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمھارے (چھوٹے چھوٹے) گناہوں کو مٹا دیں گے اور تمھیں عزت و تکریم کی جگہ میں داخل کریں گے۔‘‘ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ شاید یہ گزشتہ باتوں کی طرف ارشارہ ہے، جیسے صراط مستقیم پر استقامت کا التزام، حدود الٰہی سے عدم تجاوز، اہل ظلم کی طرف عدم میلان، اقامت صلوۃ کا حکم اور یہ بیان کہ نیکیاں تمام برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ سب ﴿ ذِكۡرٰى لِلذّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے‘‘ وہ اس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کو سمجھتے ہیں اور ان تمام اوامر کی تعمیل کرتے ہیں جن کا ثمرہ نیکیاں ہیں جو شر اور برائی کو مٹاتی ہیں ۔
[115] مگر ان امور میں مجاہدۂ نفس اور صبر کی سخت ضرورت ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ ﴾ ’’اور صبر کیجیے۔‘‘ یعنی اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم اور اس کی نافرمانی سے باز رکھیں اور اس کا ہمیشہ التزام کریں اور تنگ دل نہ ہوں ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ نیکی کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا‘‘ بلکہ وہ ان کے اچھے اعمال کو قبول فرماتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا عطا کرتا ہے۔ جب نفوس ضعیفہ، انقطاع اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر کمزور پڑ جاتے ہیں تو آیت کریمہ میں ان کو صبر کے التزام کی ترغیب اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کا شوق دلایا گیا ہے۔