(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یہی ہے راستہ میرا، میں بلاتا ہوں (تمھیں ) طرف اللہ کی، اوپر بصیرت کے ہوں میں اور وہ لوگ جنھوں نے میری پیروی کی اور پاک ہے اللہ (شریکوں سے)اور نہیں میں مشرکوں میں سے (108) اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے آپ سے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، بستیوں کے رہنے والوں میں سے، کیا پس نہیں سير کی انھوں نے زمین میں ، پس دیکھتے وہ کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ اور البتہ گھر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا، کیا پس نہیں عقل پکڑتے تم؟(109)
[108] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ ﴾ ’’(لوگوں سے) کہہ دیجیے!‘‘ ﴿ هٰؔذِهٖ سَبِيۡلِيۡۤ ﴾ ’’یہ میرا راستہ ہے‘‘ جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں ، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ ﴿ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انھیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انھیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انھیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا﴾ ’’سمجھ بوجھ کر‘‘ یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و شبہ کے پورے علم و یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَنِيۡ﴾ ’’اور میرے متبعین بھی‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جیسے میں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اس کی طرف بلاتا ہوں ۔ ﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور کی نسبت سے پاک ہے جو اس کے کمال کے منافی ہیں اور اس کے جلال کے لائق نہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’ میں کسی بھی معاملے میں مشرکین میں شامل نہیں ‘‘ بلکہ دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔
[109]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے‘‘ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لیے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپﷺ کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لیے انبیائے سابقین میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ﴿ نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى ﴾ ’’ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں‘‘ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ ﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا پس انھوں نے زمین کی سیر نہیں کی‘‘ جب وہ آپﷺ کی بات کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر کیا انھوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔‘‘ یعنی اور وہ دیکھتے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا۔ لہذا تم بھی اس رویہ کو اختیار کرنے سے بچو جس رویے پر وہ قائم رہے ہیں ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جو ان پر نازل ہوا تھا۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت کا گھر‘‘ یعنی جنت اور جنت کی دائمی نعمتیں ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو پرہیز گار ہیں ‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں منقطع ہو کر ختم ہو جانے والی ہیں ۔ آخرت کی نعمت کامل اور کبھی نہ فنا ہونے والی ہے بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے ﴿عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ﴾(ھود:11؍108) ’’یہ (اللہ تعالیٰ کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی‘‘ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ یعنی کیا تمھارے پاس اتنی سی بھی عقل نہیں جو اعلیٰ کو ادنیٰ پر ترجیح دے سکے۔