Tafsir As-Saadi
14:9 - 14:12

کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے (یعنی ) قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے، نہیں جانتا انھیں (کوئی بھی) سوائے اللہ کے، آئے تھے ان کے پاس رسول ان کے واضح دلیلوں کے ساتھ، پس لوٹائے انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں اور کہا، بے شک ہم نہیں مانتے اس چیز کو کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور بے شک ہم تو البتہ ایسے شک میں ہیں اس سے کہ تم بلاتے ہو ہمیں اس کی طرف، جو اضطراب میں ڈالنے والا ہے (9) کہا ان کے رسولوں نے، کیا اس اللہ کی بابت شک ہے (تمھیں ) جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا؟ وہ بلاتا ہے تمھیں تاکہ وہ بخش دے تمھارے لیے تمھارے گناہ اور (تاکہ) مہلت دے تمھیں ایک وقت مقرر (موت) تک، انھوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہم جیسے ہی، تم چاہتے ہو یہ کہ روک دو ہمیں ان (معبودوں ) سے کہ تھے (ان کی) عبادت کرتے باپ دادا ہمارے، پس لے آؤ تم ہمارے پاس کوئی دلیل واضح (10)کہا ان سے ان کے رسولوں نے نہیں ہیں ہم مگر بشر تم جیسے ہی لیکن اللہ احسان کرتا ہے اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور نہیں ہے (اختیار) واسطے ہمارے یہ کہ ہم لے آئیں تمھارے پاس کوئی معجزہ بغیر حکم اللہ کےاور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن (11) او ر کیا (عذر) ہے ہمارے لیے کہ نہ بھروسہ کریں ہم اوپر اللہ کے جبکہ اس نے دکھائیں ہمیں ہماری (ہدایت کی) راہیں ؟ اور البتہ ہم ضرور صبر کریں گے اوپر اس کے جو اذیت دیتے ہو تم ہمیں اور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (12)

[9] جھٹلانے والی قوموں کے پاس جب ان کے رسول آئے اور انھوں نے ان کو جھٹلایا تو ان قوموں پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں ان کو جو سزا دے دی یہ عذاب لوگوں نے دیکھا اور سنا، پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس عذاب سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَؤُا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ﴾ ’’کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، قوم نوح، عاد اور ثمود‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت بسط و تفصیل سے ان کے واقعات ذکر فرمائے ہیں ۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ١ۛؕ لَا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا اللّٰهُ﴾ ’’اور جو ان کے بعد ہوئے، جن کو صرف اللہ جانتا ہے‘‘ ان کی کثرت اور ان کی تاریخ مٹ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا ﴿ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان کے رسول ان کے پاس ایسے دلائل لے کر آئے جو ان کی تعلیمات کی صداقت پر دلالت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی رسول مبعوث فرمایا اس کو ایسی آیات عطا فرمائیں جو انسان کے بس میں نہ تھیں ۔ جب ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے تو انھوں نے ان دلائل کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا بلکہ انھوں نے نہایت تکبر کے ساتھ ان کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَرَدُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فِيۡۤ اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’پس لوٹائے انھوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں ‘‘ یعنی وہ اس وحی پر ایمان نہ لائے جو رسول لے کر آئے تھے انھوں نے کوئی ایسی بات نہ کہی جو ان کے ایمان پر دلالت کرتی ہو۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ﴾(البقرۃ: 2؍19) ’’تو یہ بجلی کی کڑک سے ڈر کر موت کے خوف سے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں ۔‘‘﴿ وَقَالُوۡۤا ﴾ اور صراحت کے ساتھ اپنے رسولوں سے انھوں نے کہا ﴿ اِنَّا كَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ ﴾ ’’ہم نے انکار کیا اس چیز کا جس کے ساتھ تمھیں بھیجا گیا اور بے شک ہمیں اس دعوت میں شک ہے جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو، خلجان میں ڈالنے والا‘‘ یعنی شک و شبہ میں ڈالتا ہے۔
[10] اس بارے میں انھوں نے یقینا جھوٹ کہا تھا اور ظلم کیا تھا۔ اسی لیے ﴿قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے رسولوں نے (ان سے) کہا: ﴿اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ ﴾ ’’کیا اللہ کے بارے میں بھی شک ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود واضح ترین اور روشن ترین حقیقت ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کرتا ہے ﴿فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی جس کے وجود پر تمام اشیاء کے وجود کا دارومدار ہے۔ تو اس کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں جو معلوم ہو، حتیٰ کہ امور محسوسہ بھی اس کی تائید نہیں کرتے۔ اس لیے انبیاء و مرسلین نے ان کو اس طرح خطاب فرمایا ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ﴿يَدۡعُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’وہ تمھیں بلاتا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمھیں تمھارے فائدے کے امور اور تمھارے مصالح کی طرف بلاتا ہے ﴿لِيَغۡفِرَ لَكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَؔكُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’تاکہ تمھارے گناہ بخشے اور فائدہ پہنچانے کے لیے ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔‘‘ یعنی تمھیں رسول کی دعوت پر لبیک کہنے کے اجر میں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس لیے دعوت نہیں دی کہ تمھاری عبادت سے مستفید ہو بلکہ تمھاری عبادت کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا۔ انھوں نے اپنے رسولوں کی دعوت کو اس طرح ٹھکرا دیا جیسے جاہل اور بے قوف لوگ ٹھکراتے ہیں ﴿قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے اپنے رسولوں سے کہا ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾ ’’تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو‘‘ یعنی تمھیں ہم پر نبوت اور رسالت کی بنا پر کیسے فضیلت حاصل ہے؟ ﴿تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’تم چاہتے ہو کہ تم ہمیں ان چیزوں سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے‘‘ تب ہم تمھاری رائے کی خاطر اپنے آباء و اجداد کی سیرت اور ان کے نظریات کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں اور ہم کیسے تمھاری اطاعت کر سکتے ہیں جبکہ تم ہماری ہی طرح انسان ہو؟ ﴿فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’پس ہمارے پاس کوئی کھلی دلیل لاؤ۔‘‘ یعنی واضح دلیل اور حجت پیش کرو اور دلیل سے ان کی مراد وہ آیت اور معین معجزہ تھا جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے، حالانکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے۔
[11]﴿قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ ﴾ ان کے رسولوں نے ان کے مطالبے اور اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ ’’ہم تمھارے ہی جیسے آدمی ہیں ۔‘‘ یعنی یہ صحیح اور حقیقت ہے کہ ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ ﴾ مگر تمھارا یہ اعتراض اس حق کو باطل نہیں کر سکتا جسے ہم لے کر آئے ہیں کیونکہ ﴿ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾ ’’اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، احسان فرماتا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی وحی اور رسالت سے نواز دیا تو یہ اس کا فضل و احسان ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو روک سکے اور اس کو اس کی نوازشوں سے منع کر سکے۔ تم اس چیز میں غور کرو جو ہم تمھارے پاس لے کر آئے ہیں اگر وہ حق ہے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ حق نہیں ہے تو بے شک اسے ٹھکرا دو۔ مگر ہم جو کچھ لے کر آئے اسے ٹھکرانے کے لیے ہمارے حال کو اپنے لیے دلیل نہ بناؤ اور تمھارا یہ کہنا ﴿ فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾’’کوئی واضح دلیل لے کر آؤ‘‘ تو یہ چیز ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اور ہمارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِيَكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’ہمارا کام نہیں کہ تمھارے پاس کوئی دلیل لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اگر وہ چاہے تو تمھارے پاس معجزہ لے آئے اور اگر وہ نہ چاہے تو تمھارے پاس معجزہ نہ لائے اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق کرتا ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ہی پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور پر نہیں ﴿ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’چاہیے کہ مومن بھروسہ کریں ‘‘ پس وہ اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کفایت تامہ، قدرت کاملہ اور بے پایاں احسان کا مالک ہے۔ جلب مصالح اور دفع ضرر میں آسانی پیدا کرنے میں اہل ایمان اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور ان کا توکل ان کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے توکل کا وجوب مستفاد ہوتا ہے نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توکل لوازمات ایمان اور بڑی بڑی عبادات میں شمار ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے کیونکہ تمام عبادات توکل پر موقوف ہیں ۔
[12]﴿ وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنَا سُبُلَنَا﴾ ’’اور ہم کو کیا ہوا کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں اور وہ سجھا چکا ہمیں ہماری راہیں ‘‘ یعنی کون سی چیز ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے سے روک سکتی ہے۔ حالانکہ ہم واضح حق اور ہدایت پر ہیں اور جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو یہ ہدایت اس کے لیے توکل کی تکمیل کی موجب بنتی ہے۔ اسی طرح یہ معلوم ہونا کہ اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر چلنے والے کے بوجھ کی کفالت کرتا اور اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے، توکل کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ اختیار نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی کفالت و کفایت کا ضامن نہیں ہوتا، پس اس کا حال متوکل کے حال کے برعکس ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں ، انبیاء و مرسلین کی طرف سے گویا اپنی قوم کے لیے ایک عظیم معجزے کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ انبیاء کی قوم غالب حالات میں ، اقتدار اور غلبہ کی مالک ہوتی ہے۔ اس کے رسول ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ ان کی چالوں اور سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی کفایت کا پورا یقین ہے اور کفار کی انبیاء و مرسلین کی بیخ کنی کی خواہش اور نور حق کو بجھانے کی حرص کے باوجود، اللہ نے انبیاء و مرسلین کی کفایت کی اور انھیں کفار کے مکروکید سے بچایا۔یہ جناب نوحu کے اس قول کی مانند ہے جو انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا ﴿يٰقَوۡمِ اِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكُمۡ مَّقَامِيۡ وَتَذۡكِيۡرِيۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّؔلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَؔكُمۡ وَ شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُنۡ اَمۡرُؔكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّؔةً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَيَّ وَلَا تُنۡظِرُوۡنِ﴾(یونس: 10؍71) ’’اے میری قوم! اگر تمھارے درمیان میرا قیام اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے تمھیں میرا نصیحت کرنا تم پر گراں گزرتا ہے تو میرا توکل اللہ پر ہے، پس تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک فیصلے پر متفق ہو جاؤ اور تمھارے اس فیصلے کا کوئی پہلو تم پر پوشیدہ نہ رہے پھر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہو کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔‘‘ اسی طرح ہودu نے اپنی قوم سے کہا تھا ﴿اِنِّيۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰مِنۡ دُوۡنِهٖ فَؔكِيۡدُوۡنِيۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ﴾(ھود: 11؍54-55)’’میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم نے جو اللہ کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں میں ان سے بیزار ہوں ، پس تم سب مل کر میرے خلاف چال چل لو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو۔‘‘﴿ وَلَنَصۡبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَيۡتُمُوۡنَا﴾ ’’اور ہم ضرور ان تکلیفوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دو گے‘‘ یعنی ہم تمھیں حق کی دعوت دیتے اور تمھیں وعظ و نصیحت کرتے رہیں گے اور تمھاری طرف سے ہمیں جو تکلیف پہنچے گی ہم اس کی پروا نہ کریں گے، ہم اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھتے ہیں اور تمھاری خیرخواہی کرتے ہوئے اپنے آپ کو تمھاری اذیتوں کا عادی بنائیں گے۔ شاید کثرت نصیحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمھیں ہدایت سے نواز دے۔ ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور صرف اللہ پر‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نہیں ﴿ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَؔكِّلُوۡنَ ﴾ ’’چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر توکل ہر بھلائی کی کنجی ہے۔ آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ انبیاء ومرسلین توکل کے بہترین مطالب اور بلند ترین مراتب پر فائز ہیں اور وہ ہے اقامت دین میں ، اللہ تعالیٰ کی مدد میں، اس کے بندوں کی راہنمائی اور ان سے گمراہی کے ازالے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور یہ کامل ترین توکل ہے۔