اور فیصلہ کر دیا آپ کے رب نے یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اسی کی اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اگر پہنچے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان دونوں میں سے یا (وہ) دونوں ہی تو نہ کہہ تو ان سے’’اف‘‘بھی اور نہ جھڑک تو انھیں اور کہہ تو ان دونوں کے لیے بات نرم لہجے میں (23) اور جھکائے رکھ تو ان دونوں کے لیے بازو عاجزی کا، نیاز مندی سےاور کہہ، اے رب! رحم فرما ان دونوں پر جیسا کہ پرورش کی انھوں نے میری بچپن میں (24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک سے منع کرنے کے بعد توحید کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقَضٰى رَبُّكَ﴾ ’’آپ کے رب نے (دینی) فیصلہ کر دیا‘‘ اور شرعی حکم دے دیا ہے ﴿ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا ﴾ ’’کہ تم عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی زمین اور آسمان کے رہنے والوں ، زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو۔ ﴿ اِلَّاۤ اِيَّاهُ ﴾ ’’مگر صرف اس کی‘‘ کیونکہ وہ واحد اور یکتا، فرد اور بے نیاز ہے۔ جو ہر صفت کمال کا مالک ہے۔ اس کی ہر صفت کامل ترین ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی اس کی کسی صفت میں کسی بھی پہلو سے مشابہت نہیں کر سکتی وہ منعم ہے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے وہی نوازتا ہے وہی تمام تکالیف کو دور کرتا ہے، وہ خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔ وہ ان تمام اوصاف میں منفرد اور یکتا ہے اس کے سوا کوئی دوسری ہستی ان اوصاف میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کے حقوق کو قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘ یعنی قول و فعل، ہر لحاظ سے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ کیونکہ والدین ہی بندے کے وجود میں آنے کا سبب ہیں ، وہ اولاد کے لیے محبت رکھتے ہیں ، اولاد کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور اولاد کو قریب رکھتے ہیں ۔ ان کے ساتھ نیک سلوک کرو جو کہ حق کی تاکید اور ان کے ساتھ بھلائی کے وجوب کا تقاضا ہے۔﴿ اِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا ﴾ ’’اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو، ان میں سے ایک یا دونوں ‘‘ یعنی جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں جس میں ان کے قوی کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ نرمی اور حسن سلوک کے محتاج ہوتے ہیں جو معروف ہے۔ ﴿ فَلَا تَقُلۡ لَّهُمَاۤ اُفٍّ ﴾ ’’تو تو ان کو ہوں بھی نہ کہہ‘‘ یہ اذیت کا ادنی مرتبہ ہے اس کے ذریعے سے اذیت کی دیگر انواع پر تنبیہ کی ہے۔ معنیٰ یہ ہے کہ ان کو ادنیٰ اذیت بھی نہ پہنچاؤ۔ ﴿ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا ﴾ ’’اور نہ ان کو جھڑکو‘‘ اور نہ ان سے سخت کلامی کرو۔ ﴿ وَقُلۡ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا﴾ ’’اور کہہ ان سے بات ادب کی‘‘ ان کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرو جن کو وہ پسند کرتے ہیں ۔ ان کے ساتھ نہایت ادب اور مہربانی سے پیش آؤ۔ انتہائی نرمی اور اچھے پیرائے میں بات کرو جس سے ان کے دل لذت محسوس کریں اور ان کو اطمینان حاصل ہو۔ یہ حسن سلوک احوال و عادات اور زمانے کے اختلاف کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
[24]﴿ وَاخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَةِ ﴾ ’’اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کے، نیاز مندی سے‘‘ یعنی ان کے سامنے تواضع، انکساری اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے جھک کر رہو۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید پر ہو نہ کہ ان سے ڈر کی بنا پر یا ان کے مال وغیرہ کے لالچ کی وجہ سے یا اس قسم کے دیگر مقاصد کی بنا پر جن پر بندے کو اجر نہیں ملتا۔ ﴿ وَقُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا ﴾ ’’اور کہہ، اے رب ان پر رحم فرما‘‘ یعنی ان کی زندگی میں اور ان کے وفات پا جانے کے بعد ان کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ انھوں نے بچپن میں تمھاری جو تربیت کی ہے یہ اس کا بدلہ ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تربیت جتنی زیادہ ہو گی والدین کا حق بھی اتنا ہی زیادہ ہو جائے گا۔ اسی طرح والدین کے سوا کوئی شخص دینی اور دنیاوی امور میں کسی کی نیک تربیت کرتا ہے تو تربیت کرنے والے شخص کا اس شخص پر حق ہے جس کی اس نے تربیت کی ہے۔