قائم کیجیے نماز وقت ڈھلنے سورج کے، رات کے اندھیرے تک اور نمازِ صبح بھی، بے شک نمازِ صبح ہے (وقت فرشتوں کے) حاضر ہونے کا (78) اور کچھ حصہ رات سے بھی، پس تہجد پڑھیں آپ ساتھ اس (قرآن کے، یہ) زائد ہے آپ کے لیے، قریب ہے کہ کھڑا کرے آپ کو آپ کا رب، مقام محمود میں (79) اور کہیے اے میرے رب! داخل کر مجھے داخل کرنا سچا اور نکال مجھے نکالنا سچااور کرمیرے لیے اپنی طرف سے غلبہ مدد دینے والا (80) اور آپ کہہ دیجیے! آگیا حق اور مٹ گیا باطل، بلاشبہ باطل ہے ہی مٹنے والا (81)
[78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں ﴿ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ ﴾ ’’سورج ڈھلنے سے‘‘ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہو جانے سے لے کر، اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں ﴿ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ﴾ ’’رات کے اندھیرے تک‘‘ یعنی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں ۔ ﴿ وَقُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ﴾ ’’اور فجر کا قرآن پڑھنا‘‘ یعنی فجر کی نماز اور اسے ’’قرآن‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراء ت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراء ت دوسری نمازوں کی قراء ت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء ت کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ا ن کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت، صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت، نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے، نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کو کسی عذر کی بناء پر جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قراء ت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔
[79]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهٖ ﴾ ’’اور رات کے ایک حصے میں آپ اس قرآن کے ساتھ جاگیے‘‘ یعنی اس کے تمام اوقات میں نماز پڑھیے ﴿ نَافِلَةً لَّكَ﴾ ’’آپ کے لیے زیادت ہے۔‘‘ یعنی تاکہ رات کی یہ نماز آپ کے لیے زیادہ ثواب، بلند مراتب اور بلند درجات کی باعث ہو، بخلاف دیگر اہل ایمان کے، کہ ان کے لیے یہ نماز ان کی برائیوں کا کفارہ ہے۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ پانچ نمازیں آپ پر اور تمام اہل ایمان پر فرض ہیں اور تہجد کی نماز خصوصی طور پر آپ پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تکریم بخشی کہ آپ کا وظیفۂ عبادت دوسرے مومنوں سے زیادہ مقرر فرمایا تاکہ وہ آپ کی عظمت شان کو سمجھیں اور آپ اس کے ذریعے سے مقام محمود پر فائز ہوں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اولین و آخرین آپ کی ستائش کریں گے۔ یہ شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے جب تمام خلائق حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس شفاعت کروانے کے لیے جائیں گے تو یہ تمام رسول شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے اور پیچھے ہٹ جائیں گے تب لوگ بنی آدم کے سردار حضرت رسول اکرمﷺ سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتے ہوئے اس مقام کی ہولناکیوں سے ان کو نجات دے۔ نبی مصطفیﷺ اپنے رب کے پاس شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور آپ کو ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اولین و آخرین آپ پر رشک کریں گے اور یوں تمام مخلوق آپ کی احسان مند ہوگی۔
[80]﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِيۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِيۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا‘‘ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہو تاکہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو ﴿وَّاجۡعَلۡ لِّيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ﴾ ’’اور کر دے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل‘‘ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاطع عطا کر، جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں ۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہر حال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع، عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کو متضمن ہے۔
[81]﴿ وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے! حق آ گیا اور باطل نکل بھاگا۔‘‘ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی طرف نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کر دیں کہ حق آ گیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا، یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا ﴾ ’’بے شک باطل ہے نکل بھاگنے والا‘‘ یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہو جاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی، اسی لیے باطل صرف انھی زمانوں اور انھی علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں ۔