Tafsir As-Saadi
18:13 - 18:14

ہم بیان کرتے ہیں آپ پر حال ان کا ساتھ حق کے، بے شک وہ چند نوجوان تھے ایمان لائے تھے وہ ساتھ اپنے رب کےاور زیادہ کیا تھا ہم نے ان کوہدایت میں (13) اور مضبوط کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو، جب کھڑے ہوئے وہ تو کہا انھوں نے، ہمارا رب تو رب ہے آسمانوں اور زمین کا، ہرگز نہیں پکاریں گے ہم سوائے اس کے کسی اور معبود کو البتہ تحقیق کہی ہم نے اس وقت ظلم و زیادتی والی بات (14)

[13] یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس قصے کو حق اور صداقت کے ساتھ اپنے نبیﷺ پر بیان کرتا ہے جس میں کسی لحاظ سے کوئی شک و شبہ نہیں ۔ ﴿ اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے‘‘ (فِتْیَۃٌ)جمع قلت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نوجوان تعداد میں دس سے کم تھے۔ وہ اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لائے مگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی قدر کی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے راہ ایمان پر گامزن ہونے کے سبب سے ان کی ہدایت کو اور زیادہ کر دیا۔ ہدایت سے مراد علم نافع اور عمل صالح ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًى ﴾(مریم : 19؍76) ’’جو لوگ راہ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی راست روی اور زیادہ بڑھاتا ہے۔‘‘
[14]﴿وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور گرہ لگا دی ہم نے ان کے دلوں پر‘‘ یعنی ہم نے انھیں صبر عطا کیا اور ان کو ثابت قدم رکھا اور ان کو اس انتہائی پریشان کن حالت میں اطمینان قلب سے نوازا۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو ایمان اور ہدایت کی توفیق عطا کی اور ان کو صبر و ثبات اور طمانیت قلب سے نوازا۔ ﴿ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب وہ کھڑے ہوئے، پس انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے‘‘ یعنی جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری پرورش کی اور جو ہمیں رزق عطا کرتا ہے اور ہماری تدبیر کرتا ہے وہی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ وہ ان عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔ یہ بت اور خود ساختہ معبود اس کائنات کے خالق نہیں ہیں جو کسی چیز کو پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں ، وہ کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں ۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت سے توحید الوہیت پر استدلال کیا اور کہا:﴿ لَنۡ نَّدۡعُوَاۡ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًا ﴾ ’’ہم اس کے سوا کسی کو معبود نہ پکاریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوقات میں سے کسی کو الہ نہیں بنائیں گے۔ ﴿لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذً ﴾ ’’تحقیق کہی ہم نے بات اس وقت‘‘ یعنی یہ جان لینے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار اور معبود حقیقی ہے اس کے سوا کسی اور کے لیے عبادت جائز ہے نہ مناسب ہے ﴿ شَطَطًا ﴾ ’’عقل سے دور‘‘ یعنی حق و صواب سے دور۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے اقرار اور التزام کو جمع کیا اور واضح کر دیا کہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اپنے رب کی مکمل معرفت حاصل تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں ہدایت عطا کی گئی تھی۔