Tafsir As-Saadi
19:7 - 19:11

اے زکریا! بے شک ہم خوشخبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے کی، کہ نام اس کا ہے یحییٰ ، نہیں بنایا ہم نے اس کا، پہلے اس سے، کوئی ہم نام (7) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیسے ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ ہے میری بیوی بانجھ اور تحقیق پہنچ چکا ہوں میں بڑھاپے کی آخری حد کو؟ (8) کہا (فرشتے نے بات) اسی طرح ہے (لیکن) کہا تیرے رب نے، وہ مجھ پر آسان ہےاور تحقیق پیداکیا میں نے تجھے پہلے اس سے، درآنحالیکہ نہیں تھا تو کچھ بھی (9)زکریا نے کہا، اے میرے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی، فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہ بات کر سکے گا تو لوگوں سے تین راتیں تندرستی کے باوجود (10)پس وہ نکلا اوپر اپنی قوم کے، حجرے سے تو اس نے اشارہ کیا ان کی طرف یہ کہ تم تسبیح بیان کرو صبح اورشام (11)

[7] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ’’یحییٰ‘‘ (u) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ’’یحییٰ‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چنانچہ یحییٰu نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب وروح کی زندگی۔ ﴿ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا ﴾ ’’نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی‘‘ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰu سے پہلے آپ جیسا کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰu اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں … مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہو گا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰu سے افضل ہیں ۔
[8] جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں ، جس کے لیے انھوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آ گئی تو انھوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی:﴿ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ ﴾ ’’اے رب! کہاں سے ہوگا میرے لیے لڑکا؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں ۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہو گئی تو آپ کو تعجب ہوا۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ﴾ ’’یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے‘‘ یعنی وہ امر جو عادۃً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
[10]﴿ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً﴾ ’’زکریا نے کہا: اے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی‘‘ یعنی جس سے میرا دل مطمئن ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک نہیں بلکہ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیمu نے عرض کی تھی ﴿ رَؔبِّ اَرِنِيۡؔ كَيۡفَ تُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ﴾(البقرۃ:2؍260) ’’اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا؟ فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ اس لیے پوچھا ہے تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو۔‘‘ پس ان کو اپنے علم میں اضافہ کی طلب تھی، انھیں علم الیقین کے بعد عین الیقین کے مقام پر پہنچنے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ﴾ ’’فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تو بات نہیں کرے گا لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست ہوتے ہوئے۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: ﴿ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾(آل عمران : 3؍41) ’’تو بات نہیں کرے گا تین دن تک مگر اشارے سے‘‘ دونوں کا معنی ایک ہے کیونکہ کبھی رات سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی دن سے، دونوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعجب خیز نشانیوں میں سے ہے کیونکہ تین دن تک، بغیر کسی بیماری اور نقص کے اور بغیر گونگا ہوئے بلکہ صحیح سلامت حالت میں بولنے سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے جو فطرت کے قوانین عادیہ کو توڑ سکتی ہے۔ بایں ہمہ حضرت زکریاu صرف اس کلام سے عاجز تھے جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ تسبیح اور ذکر وغیرہ سے یہ چیز مانع نہ تھی۔ بناء بریں ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ﴾(آل عمران:3؍41) ’’نہایت کثرت سے صبح و شام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح کر۔‘‘
[11] پس ان کا دل مطمئن ہو گیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہو گئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہو گئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ ﴾ اور انھیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ: ﴿ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو‘‘ کیونکہ یحییٰu کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔