(اللہ نے فرمایا) اے یحییٰ! پکڑ کتاب کو ساتھ قوت کے اور دیا ہم نے اسے حکم بچپن ہی میں (12) اور (دی ہم نے) شفقت اپنی طرف سے اور پاکیزگی اور تھا وہ نہایت پرہیز گار (13) اور نیکی کرنے والا ساتھ اپنے ماں باپ کےاور نہیں تھا وہ سرکش، نافرمان (14) اور اسلام ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن وہ اٹھایا جائے گا زندہ کر کے (15)
[12] گزشتہ کلام، حضرت یحییٰu کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰu اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اسکے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں … یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انھوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لیے فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا﴾ ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا۔
[13] نیز ﴿ وَّحَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور شفقت اپنی طرف سے‘‘ یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ ﴿وَزَؔكٰوةً﴾ ’’اور ستھرائی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہو گئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔ ﴿وَؔكَانَ تَقِيًّا ﴾ ’’اور تھے وہ پرہیز گار‘‘ یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے۔
[14] اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔﴿ وَّبَرًّۢا بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ‘‘ نیز یحییٰu اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ ﴿وَلَمۡ يَكُنۡ جَبَّارًا عَصِيًّا ﴾ ’’اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر‘‘ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے۔
[15] اس لیے ان کو اپنے تمام احوال میں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔﴿ وَسَلٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوۡتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر‘‘ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں … اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سخی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔