یہ ہے عیسیٰ بن مریم، بات حق کی، وہ جس میں وہ لوگ شک کرتے ہیں (34) نہیں ہے لائق واسطے اللہ کے، یہ کہ بنائے وہ کوئی اولاد، پاک ہے وہ ، جب فیصلہ کرتا ہے وہ کسی کام کا تو صرف یہی کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے (35) اور بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمھارا رب تو تم اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راہ سیدھی (36)
[35,34] یعنی حضرت عیسیٰu ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں ۔ پس حضرت عیسیٰu کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بے بہرہ ہے، اس لیے ارشاد فرمایا:﴿ الَّذِيۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾’’جس میں لوگ جھگڑتے ہیں ‘‘ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں … ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰu اللہ ہیں یا اللہ کے بیٹے ہیں یا تین میں سے ایک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی افتراء پردازی سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔﴿ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ﴾ ’’نہیں لائق اللہ کے کہ پکڑے وہ اولاد‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کے لائق ہی نہیں کیونکہ یہ ایک امر محال ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور قابل ستائش ہے وہ تمام مملکتوں کا مالک ہے۔ پس وہ اپنے بندوں اور غلاموں کو کیسے اولاد بنا سکتا ہے؟ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر نقص اور بیٹے کی حاجت سے پاک اور مقدس ہے۔ ﴿ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا﴾ یعنی جب بھی اللہ تعالیٰ چھوٹے یا بڑے معاملے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ معاملہ اس کے لیے مشکل اور ممتنع نہیں ہوتا۔ ﴿ فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’تو وہ صرف یہی کہتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے‘‘ جب اس کی قدرت اور مشیت تمام عالم علوی اور سفلی پر نافذ ہے تو اس کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟ اور جب وہ کسی چیز کے وجود کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے (کُنْ) ’’ہو جا‘‘ (فَیَکُوْنُ) ’’تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔‘‘ تب حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانا کون سا مشکل کام ہے؟
[36] اس لیے حضرت عیسیٰu نے اپنے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’بے شک اللہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا‘‘ جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری صورت گری کی، ہم میں اس کی تدبیر نافذ ہوئی اور ہم میں اس کی تقدیر نے تصرف کیا۔ ﴿فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرو اور اس کی طرف انابت اور رجوع میں جدوجہد کرو۔ اس میں توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا اقرار اور توحید ربوبیت کے ذریعے سے توحید الوہیت پر استدلال ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ ہے راستہ سیدھا‘‘ یعنی یہی اعتدال کا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے کیونکہ یہ انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کا راستہ ہے اس کے سوا ہر راستہ گمراہی کا راستہ ہے۔