Tafsir As-Saadi
4:9 - 4:10

اور چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ کہ اگر چھوڑ جائیں وہ اپنے پیچھے اولاد کمزور تو (کیسے) خوف کھاتے ہیں وہ اوپر ان کے۔ پس چاہیے کہ ڈریں وہ اللہ سے اور چاہیے کہ کہیں بات سیدھی(9) بلاشبہ وہ لوگ جو کھاتے ہیں مال یتیموں کے ظلم سے تو بلاشبہ کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ۔ اور عنقریب داخل ہوں گے وہ دہکتی آگ میں(10)

[9] کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس شخص کے لیے ہے جو کسی قریب المرگ شخص کے پاس موجود ہو اور مرنے والا اپنی وصیت میں ظلم اور گناہ کا مرتکب ہو رہا ہو۔ تو وہ اس شخص کو اس کی وصیت میں عدل و انصاف اور مساوات کی تلقین کرے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَلۡيَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ﴾ یعنی ان سے درست بات کہو جو انصاف اور معروف کے موافق ہو۔ وہ ان لوگوں کو، جو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے ہیں، ان کی اولاد کے بارے میں ایسی تلقین کریں جو وہ خود اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد بے سمجھ، یعنی پاگل، کم سن اور کمزور لوگوں کے سرپرست ہیں۔ ان کو حکم ہے کہ وہ ان بے سمجھ لوگوں کے دینی اور دنیاوی مفادات کا ایسا انتظام کریں جو وہ اپنے مرنے کے بعد اپنی کمزور اور بے سمجھ اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ ﴿ فَلۡيَتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ وہ دوسروں کی سرپرستی کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں یعنی وہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں جو تقویٰ پر مبنی ہو جس میں ان لوگوں کی اہانت نہ ہو جو ان کی سرپرستی میں ہیں، ان کی دیکھ بھال کریں اور ان سے تقویٰ کا التزام کروائیں۔
[10] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یتیموں کے مال کی دیکھ بھال کا حکم دیا تو اب ان کو یتیموں کا مال کھانے پر زجر و توبیخ کی ہے اور اس پر سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا ﴾ ’’جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔‘‘ اس ’’ناحق‘‘ کی قید سے وہ نادار سرپرست نکل گئے جن کو معروف طریقے سے بقدر ضرورت ان کے مال میں سے کھانے کی اجازت ہے، اسی طرح وہ بھی اس سے خارج ہو گئے جو آسانی اور اصلاح کی نیت سے اپنا کھانا یتیموں کے کھانے کے ساتھ ملا لیتے ہیں، کیونکہ یہ بھی جائز ہے۔پس جو کوئی ظلم سے یتیموں کا مال کھاتا ہے ﴿ يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا ﴾ ’’وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے یتیموں کا جو مال کھایا ہے وہ آگ ہے جو ان کے پیٹ میں بھڑکے گی، یہ آگ خود انھوں نے اپنے پیٹ میں داخل کی ہے ﴿ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا﴾ یعنی وہ عنقریب جلانے والی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔یہ سب سے بڑی وعید ہے جو گناہوں کے بارے میں سنائی گئی ہے جو یتیموں کا مال کھانے کی برائی اور قباحت پر دلالت کرتی ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا جہنم میں جانے کا موجب ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت:یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسwسے صحیح بخاری میں مروی ہے ’’میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے‘‘ (صحیح البخاری، الفرائض، حديث:6732، وصحیح مسلم، الفرائض، حديث:1615)ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہو گا، سوائے نانی کی وراثت کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہwسے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺنے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی اجماع ہے۔وراثت میں میت کی اولاد کا حصہ