اور کہا انھوں نے، ہر گز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے، کہہ دیجیے! کیا لیا ہے تم نے اللہ سے کوئی عہد؟ پھر تو ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے عہد کے یا کہتے ہو تم اللہ پر وہ بات جو تم نہیں جانتے؟ (80)کیوں نہیں! جس نے کمائی کوئی برائی اور گھیر لیا اس کو اس کی برائی نے، پس وہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(81) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(82)
[80] اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انھیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی۔ یعنی بہت ہی کم دنوں کے لیے جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول ان سے کہہ دو! ﴿اَتَّؔخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ عَهۡدًا﴾ یعنی کیا تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء و رسل پر ایمان لا کر اور اس کی اطاعت کر کے اللہ تعالیٰ سے عہد لے رکھا ہے۔ پس یہ وعدہ تو یقیناً صاحب وعدہ کی نجات کا موجب ہے جس میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ ﴿ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’یا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کا تمھیں علم ہی نہیں۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے دعوے کی صداقت ان دو امور میں سے ایک پر موقوف ہے۔ تیسری کوئی چیز نہیں۔ (۱)یا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے نجات کا کوئی عہد لیا ہو گا تب ان کا دعویٰ صحیح ہے۔ (۲)یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے ہیں۔ تب ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ بس یہ بہتان ان کی رسوائی اور عذاب کے لیے کافی ہے۔ ان کے حالات ہمیں اچھی طرح معلوم ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد عطا نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ انھوں نے بے شمار انبیاء کی تکذیب کی تھی حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ انبیاء کا ایک گروہ ان کے ہاتھوں قتل ہوا، نیز انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہدوں کو توڑا۔ پس اس سے اس بات کا تعین ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھ رہے اور اس کی بابت ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کو وہ خود نہیں جانتے اور علم کے بغیر اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی بات لگانا، سب سے بڑا حرام اور سب سے بڑی برائی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے ایک عام حکم بیان کیا ہے جس میں بنی اسرائیل اور دیگر تمام لوگ داخل ہیں وہ ایک ایسا حکم ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور حکم ہو ہی نہیں سکتا نہ کہ ان کی آرزوئیں اور دعوے، جووہ ہلاک ہونے والوں اور نجات پانے والوں کی بابت کرتے ہیں۔
[81] پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلٰي ﴾ یعنی معاملہ یوں نہیں جس طرح تم نے بیان کیا ہے کیونکہ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ﴿ مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً﴾ ’’جس نے کوئی برائی کمائی‘‘ یہاں ﴿سَيِّئَۃً﴾ برائی شرط کے سیاق میں نکرہ استعمال ہوئی ہے لہٰذا اس کے عموم میں شرک اور اس سے کمتر تمام برائیاں داخل ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد شرک ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ﴿ وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيۡٓـــَٔتُهٗ ﴾ ’’یعنی برائی کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی برائی نے گھیر لیا‘‘ اور اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور یہ شرک کے علاوہ کوئی اور برائی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جو ایمان سے بہرہ ور ہے برائی اسے گھیر نہیں سکتی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’پس وہ آگ کے مستحق ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ اس آیت کریمہ سے خوارج نے استدلال کیا ہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے حالانکہ یہ تو ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ یہ تو ظاہری طور پر شرک کے بارے میں ہے۔ اس طرح ہر باطل پسند جو قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے اپنے باطل نظریئے پر استدلال کرتا ہے تو استدلال خود اس کے خلاف ایک قوی دلیل ہوتا ہے۔
[82]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ اور اعمال صالحہ کیے اور اعمال مندرجہ ذیل دو شرائط کے بغیر اعمال صالحہ کے زمرے میں نہیں آتے۔ (۱) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں۔ (۲) رسول اللہﷺکی سنت کے مطابق ہوں۔ ان دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ نجات اور فوز و فلاح کے مستحق صرف نیک کام کرنے والے اہل ایمان ہیں اور ہلاک ہونے والے جہنمی، وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔