Tafsir As-Saadi
2:124 - 2:125

اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے ساتھ چند کلمات کے، تو پورا کر دیا اس نے ان کو، اللہ نے کہا بے شک میں بناؤں گا تجھے لوگوں کا امام، (ابراہیم) نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی، اللہ نے کہا نہیں پہنچتا میرا عہد ظالموں کو(124) اور جب بنایا ہم نے بیت اللہ کو بار بار لوٹنے کی جگہ لوگوں کے لیے اور امن (کی جگہ)، اور بناؤ تم مقام ابراہیم کو جائے نماز اور حکم دیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ کہ پاک کرو تم دونوں میرا گھر واسطے طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے(125)

[124] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیمuکے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیمuکا امتحان لیا یعنی چند اوامر و نواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلا و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہو جائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں۔ اس کی قدر و قیمت زیادہ ہو، اس کے اعمال صاف ستھرے ہوں اور وہ اس آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے۔ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے حضرت ابراہیمuجلیل ترین مقام پر فائز ہیں۔ جن امور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا تھا وہ بدرجہ اتم اس آزمائش میں پورے اترے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سعی کی قدر کی اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے (اپنے نیک بندوں کی مساعی کا) قدردان ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا﴾ ’’میں تجھ کو لوگوں کا امام بناؤں گا‘‘ یعنی وہ زندگی کے لائحہ عمل میں تیری پیروی کریں گے اور ابدی سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تیرے پیچھے چلیں گے۔ تجھے ہمیشہ مدح و ثنا حاصل رہے گی۔ اور بے پایاں اجر عطا ہو گا اور ہر شخص تیری عظمت کا قائل ہو گا۔ اللہ کی قسم! یہ افضل ترین درجہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کرتے ہیں اور ایک ایسا بلند مقام ہے کہ اصحاب اعمال اس تک پہنچنے کے لیے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔ اور وہ کامل ترین حالت ہے جو صرف اولوالعزم انبیاء و مرسلین، ان کے پیروکار صدیقین اور اللہ تعالیٰ اور اس کے راستے کی طرف دعوت دینے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ جب ابراہیمuاس مقام بلند کو پاکر خوش ہوئے تو انھوں نے اپنی اولاد کے لیے بھی اس مقام کی درخواست کی تاکہ ان کے اور ان کی اولاد کے درجات بلند ہوں اور یہ دعا بھی ان کی امامت، اللہ کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی اور چاہت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد میں اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والوں کی کثرت ہو۔ پس کیا خوب عظمت ہے ان اعلیٰ مقاصد اور مقامات بلند کی۔اللہ رحیم اور لطف و کرم کے مالک نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اس رکاوٹ سے ان کو باخبرکر دیا جو اس مقام کے حصول کے راستے میں حائل ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَنَالُ عَهۡدِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا‘‘ یعنی اہل ظلم دین میں امامت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس کو نقصان پہنچایا اور اس کی بے قدری کی، کیونکہ ظلم اس مقام کے منافی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں تک پہنچنے کا ذریعہ صبر و یقین ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس رتبے کا مالک ایمان اور اعمال صالحہ، اخلاق جمیلہ، خصائل حمیدہ، محبت تامہ اور خشیت و انابت میں عظمت کا حامل ہو۔ پس ظلم کا اس مقام سے کیا تعلق؟ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو ظالم نہیں وہ اس امامت کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے مگر وہاں تک پہنچانے والے اسباب استعمال کر کے۔
[125] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے باقی رہنے والے نمونے کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیمuکی امامت پر دلالت کرتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا محترم گھر جس کی زیارت کو اللہ تعالیٰ نے دین کا ایک رکن اور گناہوں، کوتاہیوں کو ختم کر دینے والا قرار دیا، اور اس محترم گھر میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیمuاور ان کی اولاد کے آثار ہیں جن کے ذریعے سے ان کی امامت کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حضرت خلیلuکی حالت یاد آتی ہے۔ پس فرمایا:﴿ وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محترم گھر کو لوگوں کا مرجع قرار دیا، لوگ اپنے دینی اور دنیاوی منافع کے حصول کی خاطر وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں بار بار جانے کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا ﴿ وَاَمۡنًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اس محترم مقام کو جائے امن قرار دیا جہاں پہنچ کر ہر شخص محفوظ و مامون ہو جاتا ہے یہاں تک کہ جنگلی جانور اور نباتات و جمادات بھی مامون ہوتے ہیں۔ بنا بریں جاہلیت کے زمانے میں ، اہل عرب اپنے شرک کے باوجود بیت اللہ کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے کوئی اگر بیت اللہ میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تو تب بھی اس میں انتقامی جذبہ جوش نہ مارتا۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حرمت، عظمت اور اس کے شرف و تکریم میں اور اضافہ کر دیا۔ ﴿ وَاتَّؔخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰؔهٖمَ مُصَلًّى ﴾ ’’اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وہ معروف مقام ہو جو اب بیت اللہ کے دروازے کے بالمقابل ہے۔۔۔ اور جائے نماز بنانے سے مراد طواف کی دو رکعت ہیں جو مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنا مستحب ہے۔ جمہور مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہاں مقام مفرد اور مضاف ہو، اس صورت میں یہ حج کے ان تمام مقامات کو شامل ہو گا، جہاں جہاں ابراہیمuکے قدم پہنچے اور یہ حج کے سارے مشاعر ہوں گے، جیسے طواف، سعی صفا و مروہ، وقوف عرفات و مزدلفہ، رمی جمار (کنکریاں مارنا) اور قربانی اور دیگر افعال حج۔ پس یہاں ﴿ مُصَلًّى ﴾ کا معنی ’’عبادت کی جگہ‘‘ قرار پائے گا۔ یعنی تمام شعائر حج میں حضرت ابراہیمuکی پیروی کرو۔ شاید یہی معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس کے اندر پہلا معنی بھی آ جاتا ہے اور لفظ بھی اس معنی کا محتمل ہے۔ ﴿ وَعَهِدۡنَاۤ اِلٰۤى اِبۡرٰؔهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِيَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم اور اسماعیلiکی طرف وحی کر کے انھیں حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو شرک، کفر و معاصی، رجس و نجاست اور گندگی سے پاک کریں تاکہ اللہ کا یہ گھر ﴿ لِلطَّآىِٕفِيۡنَ ﴾ طواف کرنے والوں، ﴿ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں‘‘ یعنی نمازیوں کے لیے پاک ہو جائے۔ آیت کریمہ میں طواف کے ذکر کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ یہ مسجد حرام سے مختص ہے اس کے بعد اعتکاف کا ذکر آیا ہے کیونکہ صحت اعتکاف کے لیے مطلقاً مسجد کی شرط ہے یہی وجہ ہے کہ نماز کا ذکر طواف و اعتکاف کے بعد ہے باوجود اس بات کے کہ وہ افضل ہے۔ باری تعالیٰ نے کعبہ کو چند وجوہات کی بنا پر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ ۱ اللہ کا گھر ہونے کے حوالے سے یہ نہایت شدت سے اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiاس کی تطہیر کا خوب اہتمام کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں اور اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔ ۲ اللہ تعالیٰ کی طرف یہ نسبت عزت و شرف اور تکریم کی متقاضی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا ہے۔ ۳ یہ اضافت اور نسبت ہی ہے جو دلوں کو بیت اللہ کی طرف کھینچنے کا باعث ہے۔