اور نہیں بنایا ہم نے اس قبلے کو کہ تھے آپ اوپر اس کے مگرتاکہ جان لیں ہم اس شخص کو جو اتباع کرے گا رسول کا، اس سے جو ، پھر جائے گا اوپر اپنی دو ایڑیوں کےاور بلاشبہ یہ (بات) بڑی بھاری ہے مگر اوپر ان کے جن کو ہدایت دی اللہ نےاور نہیں ہے اللہ کہ ضائع کر دے ایمان تمھارا، بے شک اللہ ہے لوگوں پر بہت شفیق بڑا مہربان(143)
[143]﴿وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’اور اس طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا۔‘‘ یعنی معتدل اور بہترین امت، ’’وسط‘‘ کے علاوہ اور اطراف خطرے کی زد میں ہیں اللہ تعالیٰ نے دین کے ہر معاملے میں اس امت کو معتدل امت بنایا ہے۔ انبیاء کرام کے ساتھ عقیدت کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کو ان امتوں کے مابین معتدل امت بنایا ہے جو انبیاء علیہ السلام کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں جیسے عیسائی ہیں اور انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ظلم و جفا کرنے والوں کے مابین بھی اسے معتدل امت بنایا کہ وہ سب پر اس طرح ایمان لائے جو ان کی شان کے لائق ہے۔ جب کہ یہودیوں نے انبیاء علیہ السلام کی توہین و تنقیص کی۔ امت مسلمہ شریعت کے اعتبار سے بھی امت وسط ہے اس میں نہ تو یہودیوں کی شریعت کی سی سختی اور بوجھ ہے اور نہ عیسائیوں کی سی نرمی اور لاپروائی۔ طہارت اور مطعومات کے باب میں بھی۔ نہ یہودیوں کی طرح (سختی ہے) جن کے ہاں ان کی عبادت گاہ اور کنیسہ کے سوا کہیں نماز نہیں ہوتی۔ پانی ان کو نجاستوں سے پاک نہیں کر سکتا۔ سزا کے طور پر ان پر طیبات حرام ٹھہرا دی گئیں اور نہ نصاریٰ کی مانند (نرمی ہے) کہ وہ کسی چیز کو نجس ہی نہیں مانتے اور نہ ان کے ہاں کوئی چیز حرام ہے بلکہ انھوں نے ہر چیز کو حلال ٹھہرا لیا ہے۔ بلکہ اہل ایمان کی طہارت کامل ترین طہارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ہر قسم کی طیب و طاہر مطعومات، مشروبات، ملبوسات اور پاک عورتیں مباح ٹھہرا دی ہیں اور تمام خبائث ان کے لیے حرام قرار دے دیے۔ بنا بریں اس امت کا دین سب سے کامل، اس کے اخلاق سب سے اچھے اور اس کے اعمال سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو علم و حلم اور عدل و احسان سے جس طرح نوازا ہے، اس طرح ان کے علاوہ کسی اور امت کو یہ چیزیں عطا نہیں کیں، اس لیے وہ ﴿اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’امت وسط‘‘ یعنی کامل اور معتدل امت کہلانے کی مستحق ہے۔ ﴿شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ﴾ تاکہ وہ اپنی عدالت اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کے سبب سے لوگوں پر گواہ ہوں اور وہ تمام اہل ادیان کے لوگوں سے متعلق فیصلے کریں اور ان کی بابت دوسرے فیصلے نہ کریں۔ پس جس چیز کی بابت یہ امت قبولیت کی شہادت دے، وہی مقبول اور جسے رد کرنے کی گواہی دے، وہ مردود ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوسروں کے بارے میں ان کا فیصلہ کیسے قابل قبول ہے حالانکہ تنازع میں دونوں ایک دوسرے کے مخالف فریق ہیں اور فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف قابل قبول نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی تنازع میں فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف وجود تہمت کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہوتا مگر جب تہمت کا شائبہ ختم ہو جائے اور عدالت کامل حاصل ہو جائے، جیسا کہ یہ امت عدالت کامل کی حامل ہے۔ مقصد تو حق اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے اور اس کی شرط علم و عدل ہے اور یہ دونوں چیزیں اس امت میں موجود ہیں، اس لیے اس امت کا قول قابل قبول ہے۔ اگر کوئی شک کرنے والا اس امت کی فضیلت میں شک کرے اور اس کے لیے تزکیہ کرنے والے کا مطالبہ کرے، تو اس کا تزکیہ کرنے والے اس امت کے نبی(ﷺ)تمام مخلوقات میں ایک کامل ترین ہستی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور رسول تم پر گواہ ہو گا‘‘ اس امت کی دوسری قوموں پر گواہی اس طرح ہو گی کہ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ انبیاء و مرسلین سے ان کی تبلیغ کے بارے میں سوال کرے گا اور ان کی امتیں اس تبلیغ کی تکذیب کریں گی اور کہیں گی کہ انبیاء و مرسلین نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک نہیں پہنچایا، تو انبیائے کرام علیہ السلام اس امت سے گواہی لیں گے اور ان کا نبی ان کا تزکیہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امت مسلمہ کا اجماع قطعی حجت اور دلیل ہے، کیونکہ یہ امت (مجموعی طور پر)﴿وَّسَطًا﴾ ’’امت وسط‘‘ کے اطلاق کی بنا پر خطا سے معصوم ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ امت مسلمہ خطا پر متفق ہو سکتی ہے تو یہ ’’امت وسط‘‘ نہ رہے گی۔ سوائے چند امور کے۔ ﴿ لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ﴾ ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تقاضا کرتا ہے کہ جب وہ کسی فیصلہ کے متعلق گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال قرار دیا ہے یا اس کو حرام قرار دیا ہے یا اسے واجب کیا ہے۔ تو یہ درست ہے اس لیے کہ یہ امت اس بارے میں معصوم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے، گواہی دینے اور فتوی وغیرہ دینے کے لیے عدالت شرط ہے۔
[143] یعنی اسلام کے ابتدائی دنوں میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم سے مقصود یہ تھا ﴿اِلَّا لِنَعۡلَمَ﴾ ’’مگر تاکہ ہم جان لیں‘‘ یعنی ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ تمام امور کو ان کے وجود میں آنے سے قبل جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور اپنے بندوں پر حجت قائم کرنے کی بنا پر اس علم کے ساتھ ثواب اور عقاب کا تعلق نہیں۔ بلکہ جب ان کے اعمال وجود میں آتے ہیں تب ان پر ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہے۔ (مصنف a کا قول: ’’ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے‘‘ ایک مبہم عبارت ہے جو وضاحت کی محتاج ہے ہم ائمہ تفسیر امام نسفی، امام ابوالسعود، امام ابن کثیر اور امام ابوحیان Sنے جو کچھ اپنی تفاسیر میں بیان کیا ہے یہاں ذکر کرتے ہیں پس ہم کہتے ہیں کہ (لِنَعْلَمَ)کا مطلب ہے، تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر سکیں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے سامنے ان کا حال منکشف ہو جائے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾(ال عمران:۳؍۱۷۹) ’’حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ’’علم‘‘ کو ’’تمییز‘‘ کی جگہ میں استعمال کیا ہے، کیونکہ علم ہی سے تمیز ہوتی ہے اور وہی تمییز کا سبب ہے۔ لہٰذا سبب یعنی علم کا اطلاق کر کے مسبب یعنی تمییز مراد لی گئی ہے۔ ہمارے اس موقف کی تائید ایک قراء ت سے بھی ہوتی ہے (لِیُعْلَمَ ) یعنی ’’نون‘‘ کی بجائے ’’یا‘‘ اور صیغہ مجہول کے ساتھ۔ (تاکہ جان لیا جائے) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے علم کو اپنی طرف اسناد کیا ہے، کیونکہ وہ اس کے خاص بندے ہیں، یا یہ ملاطفت خطاب ہے، مثلاً آپ اس شخص سے جوسونے کے پگھلنے کا منکر ہے، کہتے ہیں ’’ہم سونے کو آگ میں ڈالتے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ آیا سونا پگھلتا ہے یا نہیں‘‘۔البحر المحیط میں علامہ ابوحیانaرقم طراز ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے ارشاد (لِنَعْلَمَ ) میں اس علم سے مراد ابتدائے علم ہے (یعنی پہلے سے ہی ہمیں معلوم تھا) اس کا ظاہر معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کا حادث ہونا محال ہے۔ (یعنی یہ ناممکن ہے کہ پہلے اللہ کے علم میں نہ ہو اور بعد میں اسے معلوم ہو) چنانچہ تاویل کرتے ہوئے مضاف کو محذوف مانا جائے گا۔ تب آیت کا مفہوم یہ ہو گا: ’’تاکہ ہمارا رسول اور اہل ایمان جان لیں‘‘ ان کے علم کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے، کیونکہ نبیﷺاور اہل ایمان اس کے مقرب بندے ہیں تب اس کا شمار مجاز حذف میں ہو گا یا علم کا اطلاق تمییز پر کیا گیا ہے کیونکہ علم ہی کی بنا پر تمیز ہوتی ہے۔ یعنی ’’تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر لیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾(ال عمران:۳؍۱۷۹) ’’حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے‘‘ اور اس طرح اس کا شمار اطلاقِ سبب کے مجاز میں سے ہو گا اور مراد اس سے مسبب ہو گا۔ یہ تاویل حضرت عبداللہ بن عباسwسے مروی ہے۔۔۔ یا اس سے ان کی اطاعت یا معصیت کے وقت اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر مراد ہے، کیونکہ اس وقت کے ساتھ ہی اس علم کا تعلق ثواب و عقاب سے ہو گا، یا یہاں مستقبل سے ماضی مراد لیا ہے۔ تب مفہوم یہ ہو گا ’’جب ہم نے جان لیا کہ رسول کی اتباع کون کرتا ہے اور اس کی مخالفت کون کرتا ہے‘‘۔ (ملخصاً) حافظ ابن کثیر aنے اپنی تفسیر میں یہ معنی بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور یہ معنی بنایا ہے: ’’تاکہ اہل ایمان جان لیں اور کمزور ایمان والے لوگوں کا حال منکشف ہو جائے‘‘ ابن کثیر a فرماتے ہیں: ’’اے محمدﷺ!ہم نے تیرے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تھا پھر ہم نے تجھے کعبہ کی طرف پھیر دیا، تاکہ ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو تیری اتباع کرتے ہیں، تیری اطاعت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ مل کر قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو الٹے پاؤں پھر جاتے ہیں۔ (حاشیہ : از محمد زہری النجار، من علمائے ازہر) مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ صرف اس لیے مشروع کیا ہے تاکہ ہم جان لیں اور آزما لیں ﴿مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ﴾ ’’کون رسول کی اتباع کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون اس رسول پر ایمان لا کر ہر حال میں اس کی پیروی کرتا ہے کیونکہ وہ بندہ مامور اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ نیز کتب سابقہ نے خبر دی ہے کہ نبی آخر الزمانﷺکعبہ کو قبلہ بنائیں گے پس صاحب انصاف جس کا مقصود و مطلوب محض حق ہے۔ اس سے اس کے ایمان اور اطاعت رسول میں اضافہ ہوتا ہے۔ رہا وہ شخص جو الٹے پاؤں پھر گیا اور اس نے حق سے روگردانی کی اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کی تو اس کا کفر بڑھتا جاتا ہے اور اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور وہ شبہات پر مبنی باطل دلیل پیش کرتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ﴿وَاِنۡ كَانَتۡ﴾ ’’اور بلاشبہ یہ بات ہے۔‘‘ یعنی (عام لوگوں کے لیے) آپ کا بیت المقدس سے منہ پھیرنا ﴿لَؔكَبِيۡرَةً﴾ ’’بہت شاق ہے‘‘ ﴿اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ﴾ ’’سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ نے ہدایت دی‘‘ اور انھوں نے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان لیا، وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا اقرار کیا کہ اس نے ان کا رخ اس عظیم گھر کی طرف پھیر دیا جسے اس نے روئے زمین کے تمام خطوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کا قصد کرنے کو ارکان اسلام میں سے ایک رکن اور گناہوں کو مٹانے والا بنایا ہے، اسی لیے اہل ایمان پر اس کا ماننا آسان ہو گیا اور ان کے سوا دیگر لوگوں پر رخ کی تبدیلی بہت شاق گزری۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيۡعَ اِيۡمَانَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں کہ تمھارے ایمان کو یونہی ضائع کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب ہے نہ یہ اس کی ذات اقدس کے لائق ہے (کہ وہ تمھارے ایمان کو ضائع کرے) بلکہ ایسا کرنا تو اس پر ممتنع (ناممکن) ہے، پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ تمھارے ایمان کو ضائع کرنا اس کی ذات اقدس پر ممتنع اور محال ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور ایمان سے نواز کر ان پر احسان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی حفاظت کرے گا اسے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اللہ کا ایمان کی حفاظت کرنا دو طرح سے ہے:(۱)ان کو ہر فساد، ایمان میں نقص پیدا کرنے والی تکلیف دہ آزمائشوں اور ایمان سے روکنے والی خواہش نفس سے بچا کر ان کے ایمان کو ضائع اور باطل ہونے سے محفوظ رکھنا۔ (۲)ایمان کی نشوونما کے لیے ان کو ایسے اعمال کی توفیق عطا کرنا جن سے ان کے ایمان میں اضافہ اور یقین کامل حاصل ہوتا ہے۔ پس ابتدائی طور پر جس طرح اس نے ایمان کی طرف تمھاری راہ نمائی کی، اسی طرح وہ تمھارے ایمان کی حفاظت کرے گا۔ اس کو اور اس کے اجر و ثواب کو نشوونما دے کر اپنی نعمت کا اتمام کرے گا اور ایمان کو مکدر کرنے والے ہر عمل سے اس کی حفاظت کرے گا بلکہ جب ایسی آزمائشیں آئیں جن سے مقصود سچے مومن کو جھوٹے دعوے دار سے الگ کرنا ہو، تو یہ آزمائشیں مومنوں کو کھرا ثابت کرتی اور ان کی سچائی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ گویا اس آیت میں اس بات سے احتراز (بچاؤ) ہے جو کہی جا سکتی تھی کہ اللہ کا قول ﴿وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِيۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ﴾ کبھی کبھی بعض مومنوں کے لیے ترک ایمان کا سبب بنتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيۡعَ اِيۡمَانَكُمۡ﴾ اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ اس امتحان یا دیگر کسی آزمائش کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں وہ تمام اہل ایمان بھی شامل ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے وفات پا چکے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے اپنے وقت میں اللہ اور اس کے رسولﷺکی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت یہی ہے کہ ہر وقت اس کے حکم کی پیروی کی جائے۔ اس آیت کریمہ میں اہل سنت و الجماعت کے اس مذہب کی دلیل ہے کہ ایمان میں اعمال جوارح داخل ہیں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان اور صاحب رحمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت و رأفت کرنے والا ہے۔ یہ اس کی عظیم رحمت و رأفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو نعمت ایمان عطا کر کے اس نعمت کو مکمل کیا۔ اور ان کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دیا جو ایمان کا صرف زبانی دعویٰ کرتے تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا جس کے ذریعے سے ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کے درجات بلند کیے اور سب سے زیادہ عزت و شرف کے حامل گھر کی طرف ان کا رخ موڑ دیا۔