Tafsir As-Saadi
2:190 - 2:193

اور لڑو تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے،اور نہ زیادتی کرو تم، بے شک اللہ نہیں پسندکرتا زیادتی کرنے والوں کو(190) اور قتل کرو تم ان کو، جہاں پاؤ تم ان کواور نکال دو تم ان کو جہاں سے نکالا انھوں نے تم کو،اور فتنہ زیادہ سخت ہے قتل سےاور نہ لڑو تم ان سے نزدیک مسجد حرام کے، یہاں تک کہ لڑیں وہ تم سے اس میں، پس اگر وہ لڑیں تم سے تو قتل کرو تم ان کو، اسی طرح ہے سزا کافروں کی(191) پھر اگر وہ باز آجائیں، تو بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا(192) اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ اور ہو جائے دین صرف اللہ کے لیے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو نہیں ہے زیادتی مگر اوپر ظالموں کے(193)

[190] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد اور قتال کو متضمن ہیں اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد جب مسلمان طاقتور ہو گئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قتال کا حکم دیا جبکہ اس سے قبل ان کو حکم تھا کہ وہ اپنے آپ کو لڑائی سے روکے رکھیں ۔ قتال کو ﴿ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ کے ساتھ مختص کرنے میں، اخلاص کی ترغیب اور فتنوں کے زمانے میں مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کی ممانعت ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ ﴾ ’’جو تم سے لڑتے ہیں۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو تمھارے ساتھ لڑنے کی تیاری کرتے ہیں۔ یہ ذمے دار لڑنے کی اہلیت رکھنے والے کافر مرد ہیں، نہ کہ وہ بوڑھے جو لڑ سکتے ہیں اور نہ لڑائی میں کوئی مشورہ دے سکتے ہیں۔ حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت میں ظلم و تعدی کی تمام انواع شامل ہیں، جیسے عورتوں، بچوں، بے عقل لوگوں اور راہبوں وغیرہ کو قتل کرنا جو لڑائی میں شریک نہ ہوں۔ جنگ کے دوران مقتولین کا مثلہ کرنا (یعنی مقتول کے کان، ناک اور پوشیدہ اعضاء کاٹنا، آنکھیں نکال دینا اور پیٹ چاک کرنا) اور مسلمانوں کی کسی مصلحت کے بغیر جانوروں کو قتل کرنا اور درخت وغیرہ کاٹنا، سب ظلم و تعدی میں شمار ہو گا۔ جب کفار جزیہ قبول کر کے اس کو ادا کر چکے ہوں تو ان کے خلاف لڑنا بھی ظلم و تعدی ہے جو کہ ہرگز جائز نہیں۔
[192-191]﴿ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ۠ ﴾ ’’اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو‘‘ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کر دیا، کیونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔ یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیں۔ (اگر وہ ایسا کر لیں) تو یقینا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مسجد حرام میں شرک کا ارتکاب کیا اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت اور اس کا کرم ہے، چونکہ مسجد حرام کے قریب لڑنے کی ممانعت سے یہ وہم لاحق ہوتا ہے کہ یہ لڑائی اس محترم شہر کے اندر گویا فساد برپا کرنا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس حرمت والے شہر کے اندر فتنہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے دین سے لوگوں کو روکنے کے مفاسد، قتل کے مفاسد سے بڑھ کر ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! تمھارے لیے ان کے خلاف لڑنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس آیت کریمہ سے فقہ کے ایک مشہور قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ دو برائیوں میں سے (جب ایک برائی کو اختیار کرنا لابدی ہو تو) کم تر برائی کو اختیار کیا جائے۔ تاکہ بڑی برائی کا سدباب کیا جا سکے۔
[193] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے راستے میں اس قتال اور جہاد کا مقصد بیان فرمایا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ کا مقصد یہ نہیں کہ کفار کا خون بہایا جائے اور ان کے اموال لوٹ لیے جائیں بلکہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کہ دین اللہ کا ہو جائے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آ جائے اور شرک وغیرہ اور ان تمام نظریات کا قلع قمع کر دیا جائے جو اللہ کے دین کے منافی ہیں اور فتنہ سے بھی یہی مراد ہے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو قتل کرنا اور لڑائی کرنا جائز نہیں۔ ﴿ فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں۔‘‘ یعنی اگر وہ مسجد حرام کے قریب تمھارے ساتھ لڑائی کرنے سے باز آ جائیں ﴿ فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں۔‘‘ یعنی تمھاری طرف سے ان پر کوئی ظلم اور زیادتی نہیں ہونی چاہیے، سوائے اس کے جس نے ظلم کا ارتکاب کیا ہو تو ایسا شخص اپنے ظلم کے برابر سزا کا مستحق ہے۔