کیا گمان کیا تم نے کہ داخل ہو جاؤ گے جنت میں، حالانکہ نہیں پیش آئیں تمھیں (مشکلیں) مانند ان لوگوں کے جو گزر چکے تم سے پہلے، پہنچی ان کو سختی اور تکلیف اور ہلا ڈالے گئے وہ، یہاں تک کہ کہنے لگے رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس کے ساتھ، کب (آئے گی) مدد اللہ کی؟ آگاہ رہو! بے شک مدد اللہ کی قریب ہی ہے(214)
[214] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خوشحالی، بدحالی اور مشقت کے ذریعے سے ضرور اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا۔ یہ اس کی سنت جاریہ ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا جو کوئی اس کے دین اور شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ضرور آزماتا ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر کرتا ہے اور اس کی راہ میں پیش آنے والے مصائب اور تکالیف کی پروا نہیں کرتا تو وہ اپنے دعوے میں سچا ہے اور کامل ترین سعادت اور سیادت کی منزل کو پا لے گا اور جو کوئی لوگوں کے فتنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتا ہے بایں طور کہ لوگوں کی ایذائیں اور تکالیف اس کو اپنے راستے سے ہٹا دیتی ہیں اور امتحان اور آزمائش اس کی منزل کھوٹی کردیتے ہیں، تو وہ اپنے دعوئ ایمان میں جھوٹا ہے۔ کیونکہ ایمان محض تمناؤں اور مجرد دعووں کا نام نہیں بلکہ اعمال اس کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں۔ سابقہ امتوں کو بھی اسی راستے سے گزرنا پڑا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ ﴾ ’’ان کو سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں۔‘‘ یعنی وہ فقر و فاقہ کا شکار ہوئے اور ان پر مختلف بیماریوں نے حملہ کیا ﴿ وَزُلۡزِلُوۡا﴾ ’’اور وہ ہلا دیے گئے۔‘‘ یعنی قتل، جلا وطنی، مال لوٹ لینے اور عزیز و اقارب کو قتل کی دھمکی کے خوف اور دیگر نقصانات کے ذریعے سے ان کو ہلا ڈالا گیا، اس حالت نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد پر یقین رکھنے کے باوجود اس کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہو گئے۔ یہاں تک کہ معاملے کی شدت اور تنگی کی بنا پر ﴿ حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ ﴾ ’’رسول اور اس کے مومن ساتھی بھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔‘‘ چونکہ ہر شدت کے بعد آسانی اور ہر تنگی کے بعد فراخی ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’آگاہ رہو کہ اللہ کی مدد قریب ہے‘‘ پس ہر وہ شخص جو حق پر قائم رہتا ہے اس کا اسی طرح امتحان لیا جاتا ہے۔ جب بندۂ مومن پر سختیاں اور صعوبتیں یلغار کرتی ہیں اور وہ ثابت قدمی سے ان پر صبر کرتا ہے، تب یہ امتحان اس کے حق میں انعام اورمشقتیں راحتوں میں بدل جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے نوازا جاتا ہے اور وہ قلب کی تمام بیماریوں سے شفایاب ہو جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ وَلَمَّؔا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾(آل عمران : 3؍142) ’’کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ اس نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو آزما کر معلوم ہی نہیں کیا اور نیز یہ کہ وہ صبر کرنے والوں کو معلوم کرے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ الٓـمّٓۚ۰۰اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ يُّتۡرَؔكُوۡۤا اَنۡ يَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُوۡنَ۰۰ وَلَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَلَيَعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَلَيَعۡلَمَنَّ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾(العنکبوت : 29؍1-3) ’’الم ۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا، یقیناً ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا ہے جو ان سے پہلے تھے اللہ ان کو ضرور آزما کر معلوم کرے گا جو اپنے دعوئ ایمان میں سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔‘‘ پس امتحان کے وقت ہی انسان کی عزت یا تحقیر ہوتی ہے۔