Tafsir As-Saadi
2:246 - 2:252

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ایک جماعت کی بنی اسرائیل میں سے، بعد موسیٰ کے؟ جب انھوں نے کہا اپنے نبی سے، آپ مقرر کر دیں ہمارے لیے ایک بادشاہ، تاکہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں، اس نے کہا، تحقیق امید (تو یہی) ہے تم سے، اگر لکھ دیا جائے اوپر تمھارے لڑنا، یہ کہ نہ لڑو تم، انھوں نے کہا! اور ہمیں کیا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں جب کہ ہم نکال دیے گئے ہیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے؟ ، پھر جب فرض کر دیا گیا اوپر ان کے لڑنا، تو پھر گئے وہ (سب) سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے،اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(246) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک اللہ نے تحقیق مقرر کیا ہے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ، انھوں نے کہا، کیسے ہو سکتی ہے واسطے اس کے بادشاہی ہم پر جب کہ ہم زیادہ حق دار ہیں بادشاہی کے اس سے،اور نہیں دیا گیا وہ وسعت مال کی، اس نے کہا، بے شک اللہ نے چن لیا ہے اسے تم پر،اور زیادہ دی ہے اسے کشادگی علم اور جسم (دونوں) میں، اور اللہ دیتا ہے، ملک اپنا جس کو چاہتا ہے،اور اللہ بڑا وسعت والا، جاننے والا ہے(247) اور کہا ان سے ان کے نبی نے، بے شک نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمھارے پاس صندوق، اس میں سکینت ہوگی تمھارے رب کی طرف سے اور بقیہ چیزیں ہوں گی اس سے جو چھوڑ گئے تھے آل موسیٰ اور آل ہارون، اٹھا کر لائیں گے اس کو فرشتے، بلاشبہ اس میں یقیناً (عظیم) نشانی ہے واسطے تمھارے اگر ہو تم مومن (248)پس جب نکلا طالوت فوجیں لے کر تو کہا، بے شک اللہ آزمائے گا تمھیں ساتھ ایک نہر کے، سو جس نے پانی پیا اس سے (سیر ہو کر) تو نہیں ہے وہ مجھ سے،اور جس نے نہ چکھا اس سے، تو بلاشبہ وہ مجھ سے ہے، مگر جو چلو بھر لے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پس پی لیا انھوں نے اس نہر سے، سوائے تھوڑے سے لوگوں کے ان میں سے، پھر جب عبور کر لیا اس کو اس نے اور ان لوگوں نے جو ایمان لائے تھے، اس کے ساتھ، تو کہا، نہیں ہے طاقت ہمارے اندر آج لڑنے کی، ساتھ جالوت اور اس کی فوجوں کے، کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے اس پر کہ وہ ملنے والے ہیں اللہ سے، بارہا تھوڑی سی جماعت غالب آئی ہے بڑی جماعت پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(249) اور جب وہ (مومن) سامنے ہوئے واسطے جالوت اور اس کی فوجوں کے، تو کہا، اے ہمارے رب! ڈال دے ہم پر صبر اور جمائے رکھ قدم ہمارے،اور مدد فرما ہماری اوپر اس کافر قوم کے(250) پس شکست دی مومنوں نے کافروں کو، اللہ کے حکم سے،اور قتل کیا داود نے جالوت کو،اور دی اللہ نے داود کو بادشاہی اور حکمت، اور سکھایا اس کو اس سے جو چاہا (اللہ نے)اور اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ کا لوگوں کو، ان کے بعض کو بعض کے ذریعے سے تو یقیناً خراب ہو جاتی (ساری) زمین، لیکن اللہ بڑے فضل والا ہے اوپر جہانوں کے(251) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، ہم پڑھتے ہیں ان کو آپ پر ساتھ حق کے،اور بلاشبہ آپ رسولوں میں سے ہیں(252)

[247,246] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے نبیﷺکو بنی اسرائیل کے سرداروں کا واقعہ سنایا ہے۔ سرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طورپر سردار ہی اپنے فائدے کے معاملات پر غوروفکر کرتے ہیں تاکہ وہ متفقہ فیصلہ کریں اور دوسرے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ وہ موسیٰu کے بعد مبعوث ہونیوالے اپنے نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا: ﴿ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’کسی کو ہمارا بادشاہ بنادیجیے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔‘‘ تاکہ قوم کی شیرازہ بندی ہو اور ہم دشمن کا مقابلہ کرسکیں۔ شاید اس وقت ان کا کوئی متفقہ سردار نہیں تھا۔ جیسے قبائلی معاشرے میں ہوتا ہے کہ کوئی گھرانا یہ پسند نہیں کرتا کہ دوسرے گھرانے کا کوئی آدمی اس پر حاکم مقرر ہوجائے، اس لیے انھوں نے اپنے نبی سے درخواست کی کہ ایک بادشاہ مقرر کردیا جائے جس پر سب فریق متفق ہوجائیں۔ بنی اسرائیل میں سیاسی رہنمائی انبیائے کرام کا فریضہ تھی۔ جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا نبی مقرر فرما دیتا۔ جب انھوں نے اپنے نبی سے یہ بات کہی تو پیغمبر نے کہا:﴿ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ﴾ ’’ممکن ہے جہاد فرض ہوجانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔‘‘ یعنی شاید تم ایسی چیز کا مطالبہ کررہے ہو کہ اگر تم پر فرض ہوجائے تو تم اس کو انجام نہ دے سکو۔ نبی کے اس مشورہ کو تسلیم کرلینے میں ان کے لیے عافیت تھی، لیکن انھوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے اپنے عزم و نیت پر اعتماد کیا اور بولے:﴿ وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآىِٕنَا ﴾ ’’بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیے گئے ہیں۔‘‘ یعنی ہمیں جہاد کرنے میں کیا عذر ہوسکتا ہے جبکہ ہمیں اس پر مجبور کردیا گیا ہے کیونکہ ہمیں وطن سے بے وطن کردیا گیا اور بیوی بچوں کو قید کرلیا گیاہے؟ ان حالات میں بھی اگر ہم پر اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم نہ بھی آئے تب بھی ہمیں لڑنا چاہیے۔ اب جب کہ سب کچھ ہوچکا ہے اور جہاد فرض کردیا جائے تو ہم کیوں نہیں لڑیں گے۔ لیکن ان کی نیتیں درست نہ تھیں اور اللہ پر توکل مضبوط نہیں تھا، اس لیے ﴿ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا﴾ ’’جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سب پھر گئے۔‘‘ انھیں بزدلی کی وجہ سے جہاد کی ہمت نہ ہوئی، وہ دشمن سےٹکر لینے کی جرأت نہ کرسکے۔ ان کا عزم جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اکثریت پربزدلی کے جذبات غالب آگئے۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’سوائے تھوڑے سے لوگوں کے‘‘ جنھیں اللہ نے ثابت قدمی بخشی، ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ پس انھوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دشمن سےٹکرانے کا حوصلہ کیا تو انھیں دنیا اور آخرت کی عزت نصیب ہوئی۔ لیکن اکثریت نے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا، اس لیے اللہ تعالیٰ فرتا ہے:﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ ﴿ وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ ﴾ ’’اور ان کے نبی نے (ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے) کہا‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ بَعَثَ لَكُمۡ طَالُوۡتَ مَلِكًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمھارا بادشاہ بنادیا ہے۔‘‘ یہ نام زدگی اللہ کی طرف سے تھی، لہٰذا ان کا فرض تھا کہ اسے قبول کرتے ہوئے اعتراضات بند کردیتے۔ لیکن انھوں نے اعتراض کردیا، اور کہنے لگے:﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهُ الۡمُلۡكُ عَلَيۡنَا وَنَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡكِ مِنۡهُ وَلَمۡ يُؤۡتَ سَعَةً مِّنَ الۡمَالِ ﴾ ’’بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت حق دار بادشاہت کے ہم ہیں۔ اسے مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔‘‘ یعنی وہ ہمارا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے جب کہ وہ خاندانی طورپر ہم سے کم تر ہے، پھر وہ غریب اور نادار بھی ہے، اس کے پاس حکومت قائم رکھنے کے لیے مال بھی نہیں۔ ان کی اس بات کی بنیاد ایک غلط خیال پر تھی کہ بادشاہ اور سردار ہونے کے لیے اونچا خاندان اور بہت مالدار ہونا ضروری ہے۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ ترجیح کے قابل اصل صفات زیادہ اہم ہیں، اس لیے ان کے نبی نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىهُ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سنو! اللہ تعالیٰ نے اس کو تم پر برگزیدہ کیا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کی اطاعت قبول کرنا تمھارا فرض ہے۔ ﴿وَزَادَهٗ بَسۡطَةً فِي الۡعِلۡمِ وَالۡجِسۡمِ ﴾ ’’اور اسے اللہ نے علمی اور جسمانی برتری بھی عطافرمائی ہے۔‘‘ یعنی اسے عقل اور جسم کی قوت عطا فرمائی ہے۔ اور ملک کے معاملات انھی دو چیزوں کی بنیاد پر صحیح طورپر انجام پاتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ عقل و رائے میں کامل ہو، اور اس صحیح رائے کے مطابق احکام نافذ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہو، تو درجہ کمال حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک مفقود ہو تو نظام میں خلل آجائے گا۔ اگر وہ جسمانی طورپر طاقت ور ہوا لیکن پورا عقل مند نہ ہوا تو ملک میں غیر شرعی سختی ہوگی اور طاقت کا استعمال حکمت کے مطابق نہیں ہوگا اور اگر وہ معاملات کی پوری سمجھ رکھنے والا ہوا، لیکن اپنے احکام نافذ کرنے کی طاقت سے محروم ہوا، تو اس عقل و فہم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جسے وہ نافذ نہ کرسکے۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کشادگی والا۔‘‘ یعنی بہت فضل و کرم والا ہے اس کی عمومی رحمت کسی کو محروم نہیں رکھتی، بلکہ ہر ادنیٰ و اعلیٰ اس سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’علم والا ہے۔‘‘ وہ جانتا ہے کہ فضل کا صحیح حق دار کون ہے۔ لہٰذا اس پر فضل کردیتا ہے۔ اس کلام سے ان کے دلوں کے تمام شکوک و شبہات دور ہوگئے۔ کیونکہ طالوت میں حکمرانوں والی خوبیاں موجود تھیں، اور اللہ اپنا فضل جسے چاہے دیتا ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
[248] اس کے بعد ان کے نبی نے ایک حسی نشانی بھی بیان کی، جسے وہ دیکھ لیں گے۔ وہ ہے اس تابوت کا واپس مل جانا جو ایک طویل عرصہ سے ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ اس تابوت میں ان کے لیے اطمینان قلب اور سکون کا سامان موجود تھا۔ یعنی آل موسیٰ اور آل ہارون کی چھوڑی ہوئی اشیا موجود تھیں۔ اسے فرشتے اٹھا کر لائے تو لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
[250,249] جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کون کون ہے؟ چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ مُبۡتَلِيۡكُمۡ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّيۡ ﴾ ’’سنو! اللہ تعالیٰ تمھیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔‘‘ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بے صبری اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے۔ ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ ﴾ ’’اور جو اسے نہ چکھے‘‘ یعنی اس کا پانی نہ پیے۔ وہ میرا ہے۔ ﴿ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَةًۢ بِيَدِهٖ ﴾ ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے۔‘‘ اسے کوئی گناہ نہیں۔ اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس میں برکت ڈال دے کہ وہ اس کے لیے کافی ہوجائے۔ اس امتحان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس پانی تھوڑا رہ گیا تھا، تاکہ آزمائش ہوسکے۔ اکثر نے نافرمانی کرتے ہوئے اتنا پانی پی لیا، جتنا پینے کی انھیں اجازت نہیں دی گئی تھی۔ چنانچہ یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں جہاد کرنے سے بھی پہلوتہی کرگئے۔ ان کا گھڑی بھر پانی سے صبر نہ کرسکنا بہت بڑی دلیل تھی کہ وہ جنگ میں بھی صبر نہ کرسکیں گے، جو طویل بھی ہوسکتی ہے اور پر مشقت بھی۔ ان کے اس طرح پلٹ جانے سے باقی لشکر میں اللہ پر اعتماد، اللہ کے سامنے عجزو نیاز اور اپنی طاقت پر گھمنڈ سے اجتناب جیسی کیفیات اور زیادہ ہوگئیں وہ اپنی قلت اور دشمن کی کثرت کو دیکھ کر مزید ثابت قدم ہوگئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَلَمَّؔا جَاوَزَهٗ ﴾ ’’جب وہ نہر سے گزر گیا‘‘ ﴿ هُوَ ﴾ ’’وہ طالوت‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ ﴾ ’’مومنین سمیت‘‘ جنھوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جائز حد سے زیادہ پانی نہیں پیا تھا۔ تو فوج کے اکثر لوگ اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت دیکھ کر کہنے لگے: ﴿ لَا طَاقَةَ لَنَا الۡيَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ ﴾ ’’آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں۔‘‘ کیونکہ ان کی تعداد بھی زیادہ ہے اور اسلحہ بھی۔ ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰهِ ﴾ ’’لیکن اللہ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا‘‘ جو پختہ ایمان کے حامل تھے، انھوں نے دوسروں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے، انھیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ﴿ كَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً كَثِيۡرَةًۢ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بسا اوقات چھوٹی اورتھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے‘‘ یعنی اس کے ارادہ اور مشیت سے ۔’’غلبہ پالیتی ہیں۔‘‘ کیونکہ معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عزت اور ذلت اس کے دینے سے ملتی ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر کثرت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس کی مدد حاصل ہو تو قلت سے کوئی نقصان نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ اس کی مدد اور توفیق انھیں حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کی مدد حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ بندے کا اللہ کی رضا کے لیے صبر کرنا ہے۔ ان کی نصیحت کا کم ہمتوں پر بہت اچھا اثر ہوا، اس لیے جب وہ جالوت کے مقابلے میں آئے تو ان سب نے دعا مانگی:﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’اے پروردگار! ہمیں صبر دے۔‘‘ یعنی دل مضبوط کردے۔ ہمیں صبر کی توفیق دے۔ ﴿وَّثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا ﴾ ’’اور ثابت قدمی دے۔‘‘ کہ ہمارے قدموں میں لغزش نہ آئے، ہم بھاگنے کی غلطی سے محفوظ رہیں۔ ﴿ وَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جالوت اور اس کی قوم کافر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی، کیونکہ انھوں نے قبولیت کے اسباب مہیا کرلیے تھے۔ اللہ نے ان کی مدد فرمائی۔
[251]﴿ فَهَزَمُوۡهُمۡ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ وَقَتَلَ دَاوٗدُ ﴾ ’’چنانچہ اللہ کے حکم سے انھوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی۔ اور حضرت داودuکے ہاتھوں‘‘ جو طالوت کے لشکر میں شامل تھا ﴿ جَالُوۡتَ ﴾ ’’جالوت قتل ہوا‘‘ آپuنے بہادری، قوت اور ثابت قدمی کی بدولت کافروں کے بادشاہ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ ﴿ وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے داودuکو مملکت و حکمت عطا فرمائی۔‘‘ یعنی اللہ نے آپ پر یہ احسان فرمایا کہ بنی اسرائیل کی حکومت عطا فرمانے کے علاوہ حکمت بھی عطا فرمائی، یعنی نبوت سے سرفرازی فرمائی جس سے عظیم شریعت اور سیدھی راہ ملی، اس لیے فرمایا:﴿ وَعَلَّمَهٗ مِمَّؔا يَشَآءُ ﴾ ’’اور جتنا کچھ چاہا، علم بھی عطا فرمایا۔‘‘ شریعت کا علم بھی اور سیاست کا علم بھی۔ اس طرح انھیں نبوت اور حکومت دونوںعطا فرمادیں۔ اس سے پہلے انبیاء اور ہوتے تھے اور بادشاہ اور۔ پس جب اللہ نے ان کی مدد فرمائی تو وہ لوگ اطمینان سے اپنے گھروں میں رہنے لگے، اور بے خوف ہوکر اللہ کی عبادت کرنے لگے ۔ اللہ نے ان کے دشمنوں کو مغلوب کردیا اور انھیں اقتدار عطا فرمادیا، یہ سب جہاد فی سبیل اللہ کی برکات تھیں، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔‘‘ اگر مجاہدین کے ذریعے سے بدکاروں اور کفار کا قلع قمع نہ کرتا تو کافروں کے غلبے کی وجہ سے، کفر کی رسمیں قائم ہونے سے اوراللہ کی عبادت سے روک دیے جانے کی وجہ سے زمین فساد سے بھر جاتی۔ ’’لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یہ اس کا فضل ہے کہ اس نے جہاد مقرر کردیا، جس میں ان کی سعادت اور ان کا دفاع ہے اور انھیں معلوم و نامعلوم اسباب کے ذریعے سے زمین میں اقتدار عطا فرما دیا۔
[252] پھر فرمایا: ﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں، جنھیں ہم حقانیت کے ساتھ آپ پرپڑھتے ہیں۔‘‘ یعنی ایسی سچائی کے ساتھ جس میں کوئی شک نہیں، جو اعتبار اور بصیرت کوبھی متضمن ہے اور بیان حقائق امور کو بھی۔ ﴿ وَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘ اس میں اللہ کی طرف سے اس کے رسول کے لیے رسالت کی گواہی ہے۔ آنحضرتﷺکی رسالت کے دلائل میں انبیائے سابقین، ان کے متبعین اور مخالفین کے ان واقعات کا بیان بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپﷺکو نہ بتاتا تو آپ کو ان کا علم نہیں ہوسکتا تھا۔ بلکہ آپ کی پوری قوم میں کوئی بھی ایسا شخص نہ ہوتا جس کو ان واقعات کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ آپ اللہ کے سچے رسول اور نبی ہیں۔ جو حق لے کر آئے ہیں آپﷺکا دین بھی سچا ہے جسے اللہ تعالیٰ تمام ادیان پر غالب کرنے والا ہے۔ اس قصہ میں بہت سی نصیحت آموز نشانیاں ہیں جن سے اہل علم کو نصیحت حاصل ہوتی ہے، مثلاً (۱) پہلی بات یہ ہے کہ اہل حل و عقد کا جمع ہوکر یہ غوروفکر کرنا کہ ان کے معاملات کس طریقے سے سدھر سکتے ہیں اور پھر ان تجاویز پر عمل کرنا ترقی اور حصول مقصود کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جیسے ان سرداروں نے اپنے نبی سے بادشاہ مقرر کردینے کی درخواست کی تاکہ وہ متحد اور متفق رہیں اور ایک بادشاہ کا حکم مانیں۔ (۲) جب حق کی مخالفت کی جائے اور اس پر شبہات وارد کیے جائیں تو اس سے حق زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں یقین تام حاصل ہوجاتا ہے،جیسے ان لوگوں نے طالوت کے بادشاہت کا مستحق ہونے پر اعتراض کیا، تو انھیں ایسے جواب دیے گئے کہ وہ مطمئن ہوگئے اور شک و شبہ ختم ہوگیا۔ (۳) حکومت کو کمال تب حاصل ہوتا ہے جب حاکم علم و عقل بھی رکھتا ہو اور نافذ کرنے کی قوت بھی رکھتا ہو۔ ان میں سے کسی ایک شرط کا یا دونوں شرطوں کا فقدان سلطنت کے نقصان کا باعث ہے۔ (۴) اپنے آپ پر اعتماد کرنے سے ناکامی حاصل ہوتی ہے اور صبر پر قائم رہتے ہوئے اللہ سے مدد مانگنا اور اس کی پناہ حاصل کرنا فتح و کامیابی کا ذریعہ ہے۔ پہلی صورت کی مثال ان کا اپنے نبی سے یہ کہنا ہے: ﴿ وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآىِٕنَا ﴾ ’’بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیے گئے ہیں۔‘‘ اس کا نتیجہ ہوا کہ جب جہاد کا حکم ہوا تو وہ منہ موڑ گئے۔دوسری صورت کی مثال اللہ کا یہ فرمان ہے:﴿ وَلَمَّا بَرَزُوۡا لِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’جب وہ جالوت کے مقابلے میں آئے تو ان سب نے دعا مانگی! اے پروردگار! ہمیں صبر دے، ثابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما۔‘‘ نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن کو شکست ہوگئی۔ (۵) اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ پاک کو ناپاک سے، سچے کو جھوٹے سے، ثابت قدمی والے کو بزدل سے ممتاز اور الگ کردے۔ اللہ تعالیٰ انھیں ملے جلے اور غیر نمایاں نہیں رہنے دیتا۔ (۶) اللہ کی رحمت اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کافروں اور منافقوں کے شر کو مجاہد مومنوں کے ذریعے سے دور کردیتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو زمین میں کافروں کا غلبہ ہوتا، اور کافرانہ طور طریقے ہر جگہ پھیل جاتے۔ جس سے زمین فساد سے بھرجاتی۔