اور لڑو تم اللہ کی راہ میں، اور جان لو! بے شک اللہ سننے والا، خوب جاننے والا ہے(244) کون ہے جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ ، پھر اللہ بڑھا دے وہ (مال) اس کے لیے کئی کئی گنا؟ اور اللہ ہی تنگی کرتا اور فراخی کرتا ہےاور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(245)
[245,244] چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننا جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا نیت درست رکھو، اور جہاد سے صرف اللہ کی رضا تمھارا مقصود ہونا چاہیے اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ سے پہلوتہی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جنگ نہ کرنے کے نتیجے میں تم زیادہ عرصہ زندہ رہو گے تو حقیقت یوں نہیں ہے۔ اسی لیے اس حکم کی تمہید کے طورپر گزشتہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح ان کو موت کے ڈر سے گھروں سے نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ ان کا خطرہ ان کے سامنے آگیا جب کہ ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ موت اس طرح بھی آسکتی ہے، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمھارا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اور چونکہ اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لیے مال خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اللہ نے اس راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا اور ترغیب دی، اور اسے قرض فرمایا، چنانچہ فرمایا ﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے؟‘‘ اور جتنا مال ہوسکے نیکی کے کاموں میں، بالخصوص جہاد میں خرچ کرے۔ ’’اچھا‘‘ وہ ہے جو حلال کی کمائی سے ہو اور اس سے مقصودمحض رضائے الٰہی ہو۔ ﴿ فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا كَثِيۡرَةً ﴾ پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔‘‘ یعنی نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرمائے۔ ثواب میں یہ اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت، نیت، اس خرچ کے فائدے اور ضرورت کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ مفلس ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ﴾ ’’اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے۔‘‘ یعنی جس کا رزق چاہتا ہے وسیع کردیتا ہے، اورجس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ معاملات صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں اور تمام امور کا دارومدار اسی کی ذات پر ہے۔ بچا بچا کر رکھنے سے رزق بڑھتا نہیں اور خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں۔ علاوہ ازیں جو خرچ کیا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا، بلکہ ایک دن آنے والا ہے جب وہ اپنی پیش کی ہوئی اشیا پوری پوری، بلکہ بہت زیادہ اضافے کے ساتھ کئی گنا وصول کرلیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر کے مقابلے میں اسباب فائدہ نہیں دیتے۔ خصوصاً وہ اسباب جن سے اللہ کے احکامات پر عمل ترک ہوتا ہو، نیز ان میں اللہ کی عظیم نشانی کا ذکر ہے کہ اسی جہان میں مردوں کو زندہ کرکے دکھا دیا۔ ان میں اللہ کی راہ میں جہاد و قتال اور خرچ کرنے کا حکم ہے یہاں ایسی چیزیں بیان کی گئی ہیں جن سے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہوتی ہے، مثلاً اسے قرض قرار دینا، اس کا بہت زیادہ بڑھ جانا، رزق کی کمی بیشی اللہ کے ہاتھ میں ہونا اور بندوں کا اسی کی طرف لوٹ کے جانا۔