Tafsir As-Saadi
20:24 - 20:36

تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)

[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔