Tafsir As-Saadi
20:80 - 20:82

اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82)

[81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔
[82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔