اور البتہ تحقیق عہد لیا تھا ہم نے آدم سے اس سے پہلے، پس بھول گیا وہ اور نہ پائی ہم نے اس میں ارادے کی پختگی (115)
[115] یعنی ہم نے آدمu کو وصیت کی، اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں ۔ پس وہ اپنی اولاد کے لیے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدمu کی طرح ہو گئی، آدمu سے بھول ہو گئی، اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہو گئی، آدمu سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدمu اپنے عزم پر قائم نہ رہ سکا اسی طرح اس کی اولاد اپنے عزم کو توڑ بیٹھتی ہے، آدمu نے اپنی خطا کا اعتراف اور اقرار کر کے فوراً توبہ کر لی اور اس کی خطا کو بخش دیا گیا، جو کوئی اپنے باپ کی مشابہت اختیار کرتا ہے اس پر ظلم نہیں کیا جاتا، پھر اس اجمال کی تفیصل بیان کرتے ہوئے فرمایا: