اور نہ دراز کریں آپ اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف کہ فائدہ دیا ہم نے ان کے ساتھ کئی قسم کے لوگوں کو ان میں سے، رونق کا زندگانیٔ دنیا کی تاکہ ہم آزمائیں انھیں اس میں اور رزق آپ کے رب کا بہت بہتر اور دیرپا ہے(131)
[131] یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً:لذیذ ماکولات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کیے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں ، اس لیے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنے والوں کی نظریں ہی اسے پسندیدگی سے دیکھتی ہیں ۔ آخرت سے قطع نظر کر کے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں ، پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بے موت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب انھیں اپنی بے مائیگی کا علم ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس دنیا کو فتنہ اور آزمائش بنایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کے پاس ٹھہرتا اور اس کے فریب میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اچھے عمل کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا۰۰وَاِنَّا لَجٰؔعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا﴾(الکہف:18؍7-8) ’’جو کچھ زمین پر موجود ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے کام کرتا ہے، پھر جو کچھ اس زمین پر ہے ہم سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں ۔‘‘ ﴿وَرِزۡقُ رَبِّكَ ﴾ ’’اور تیرے رب کا رزق‘‘ دنیاوی رزق یعنی علم، ایمان اور اعمال صالحہ کے حقائق، اخروی رزق یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور رب رحیم کے جوار رحمت میں سلامتی سے بھرپور زندگی۔ ﴿ خَيۡرٌ ﴾ اپنی ذات و صفات میں اس زندگی سے بہتر ہے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ﴿وَّاَبۡقٰى﴾ ’’اور پائدار ہے‘‘ کیونکہ اس کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے سائے دائمی ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾(الاعلی:87؍16۔17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب دیکھے کہ اس کا نفس سرکشی اختیار کر کے دنیا کی زیب و زینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے عطا ہونے والا ہے، پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کرے۔