اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔
[27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔
[28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔
[29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟