Tafsir As-Saadi
22:67 - 22:70

واسطے ہر امت کے مقرر کیا ہے ہم نے طریقہ عبادت کا، وہ بجالانے والے ہیں اس کو، پس نہ جھگڑا کریں وہ آپ سے اس معاملے میں اور آپ بلائیں طرف اپنے رب کی ، بلاشبہ آپ البتہ اوپر راہ راست کے ہیں (67) اور اگر وہ (لوگ) جھگڑا کریں آپ سے تو آپ کہہ دیجیے! اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (68) اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کے ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے (69) کیا نہیں جانتے آپ کہ بے شک اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے؟ بلاشبہ یہ (سب کچھ) لوح محفوظ میں (درج) ہے، بے شک یہ اوپر اللہ کے آسان ہے (70)

[67] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ﴿ مَنۡسَكًا ﴾ ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا١ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾(المائدۃ:5؍48)’’ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لیے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمھیں دیے ہیں وہ ان میں تمھیں آزمانا چاہتا ہے۔‘‘﴿ هُمۡ نَاسِكُوۡهُ ﴾ یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں ، اس لیے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش نہیں ، خاص طور پر ان پڑھوں کے لیے جو شرک اور کھلی جہالت میں مبتلا ہیں کیونکہ جب رسول کی رسالت دلائل کے ساتھ ثابت ہو گئی تو اس پر اعتراض کو ترک کرنا، ان تمام احکام کو قبول کرنا اور ان کے سامنے سرتسلیم کرنا واجب ہے، جو رسول لے کر آیا ہے، بناء بریں فرمایا:﴿ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی آپﷺ کی تکذیب کرنے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں ، جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بنا پر مردار کی حلت کے بارے میں آپﷺ سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جسے تم قتل کرتے ہو اسے تو کھا لیتے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے‘‘ اور جیسے وہ سود کی حلت کے لیے کہتے ہیں : ’’تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے‘‘ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات، جن کا جواب دینا لازم نہیں ۔ وہ درحقیقت، اصل رسالت ہی کے منکر ہیں ، جس میں کسی بحث اور مجادلے کی گنجائش نہیں بلکہ ہر مقام کے لیے ایک الگ دلیل اور گفتگو ہے۔اس قسم کا اعتراض کرنے والا، منکر رسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش حق کے لیے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے: ’’آپ کے ساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم اثبات پر گفتگو ہو سکتی ہے‘‘ ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر اقتصار کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی طرف بلائیں اور اسی رویے کو اپنائے رکھیں ، خواہ معترضین اعتراض کریں یا نہ کریں اور یہ مناسب نہیں کہ کوئی چیز آپ کو اس دعوت سے ہٹا دے کیونکہ ﴿اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’یقینا آپﷺ سیدھے راستے پر ہیں ‘‘ جو معتدل اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اور علم حق اور اس پر عمل کا متضمن ہے۔ آپ کو اپنی دعوت کی حقانیت پر اعتماد اور اپنے دین پر یقین ہے، لہٰذا یہ اعتماد اور یقین اس امر کے موجب ہیں کہ آپﷺ اپنے موقف پر سختی سے جمے رہیں اور وہ کام کرتے رہیں جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپﷺ کا موقف مشکوک اور کمزور نہیں یا آپ کی دعوت جھوٹ پر مبنی نہیں کہ آپ لوگوں کی خواہشات نفس اور ان کی آراء کی طرف التفات کریں اور ان کا اعتراض آپﷺ کی راہ کو کھوٹا کر دے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾(النمل:27؍79) ’’اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے، بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ میں جزئیات شرع پر معترضین کے اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو عقل صحیح پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت ہر اس چیز کا وصف ہے جسے رسول لے کر آئے ہیں ۔ ہدایت وہ طریق کار ہے جس سے اصولی اور فروعی مسائل میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا حسن اور جن میں پنہاں عدل و حکمت عقل صحیح اور فطرت سلیم کے نزدیک معروف ہے اور یہ چیز مامورات و منہیات کی تفاصیل پر غور کرنے سے معلوم کی جا سکتی ہے۔
[69,68] بناء بریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حالت میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿ وَاِنۡ جٰؔدَلُوۡكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجیے، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے مقاصد اور تمھاری نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ تمھیں قیامت کے دن ان کی جزا دے گااور تمھارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ پس جو کوئی صراط مستقیم کے موافق ہو گا وہ ان لوگوں میں شامل ہو گا جنھیں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہو گا وہ جہنمیوں میں شامل ہو گا۔
[70] اس کے فیصلے کی تکمیل یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر ہو گا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے احاطۂ علم اور احاطۂ کتاب کا ذکر فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ پر تمام معاملات کے ظاہر و باطن، جلی و خفی اور اول و آخر میں سے کچھ بھی مخفی نہیں ، زمین و آسمان کی موجودات کا احاطہ کرنے والا علم اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب میں درج کر رکھا ہے… اور وہ ہے لوح محفوظ۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا ’’لکھ! قلم نے عرض کیا ’’کیا لکھوں ؟ فرمایا ’’قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ‘‘(سنن ابی داود، السنۃ، باب فی القدر، ح:4700 و جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ نون و القلم، ح:3319)﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾ اگرچہ تمھارے نزدیک اس کے تصور کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کے لیے تمام اشیاء کے علم کا احاطہ کرنا بہت آسان ہے اور اس کے لیے یہ بھی بہت آسان ہے کہ آئندہ واقعات کے علم کو واقعات کے مطابق ایک کتاب میں درج کر دے۔