Tafsir As-Saadi
23:45 - 23:49

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49)

[45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘
[46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
[47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘
[48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
[49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔