پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41)
[31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
[32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
[33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
[34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘
[36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘
[37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
[39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔
[41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘