Tafsir As-Saadi
24:32 - 24:33

اور نکاح کروتم بے نکاحوں کا اپنے میں سے اور (ان کا بھی) جو نیک ہیں تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے اگر ہوں گے وہ فقیر تو غنی کر دے گا انھیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ وسعت والا خوب جاننے والا ہے (32)اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ لوگ جو نہیں پاتے (طاقت) نکاح کی حتی کہ غنی کر دے انھیں اللہ اپنے فضل سےاور وہ لوگ جو چاہتے ہیں مکاتیب (آزادی کی تحریم لکھانا) ان لوگوں میں سے کہ مالک ہیں (ان کے) تمھارے دائیں ہاتھ تو تم لکھ کر دے دو ان کو اگر معلوم کرو تم ان میں بھلائی اور دو تم ان کو اللہ کے (دیے ہوئے) اس مال میں سے وہ جو اس نے دیا ہے تمھیں اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو اوپر بدکاری کرنے کے، اگر وہ چاہیں بچناتاکہ تلاش کرو تم سامان زندگانیٔ دنیا کا اور جو کوئی مجبور کرے گا انھیں تو بلاشبہ اللہ بعد ان کے مجبور کیے جانے کے، بہت بخشنے والا ، نہایت رحم کرنے والا ہے (33)

[32] اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں ۔ (ایامی)سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردوزن، لہٰذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردوزن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ، یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست ہیں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولیٰ ہے۔﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآىِٕكُمۡ﴾’’اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہیں جو دینی اعتبار سے صالح ہوں کیونکہ لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دینی اعتبار سے صالح ہیں ، وہی لوگ ہیں جو بدکار اور زانی نہیں ہوتے، ان کا آقا اس بات پر مامور ہے کہ وہ ان کا نکاح کرے، یہ ان کی صالحیت کی جزا اور اس کی ترغیب ہے، نیز زناکار کا نکاح کرنے سے روکا گیا ہے تب یہ اس حکم کی تائید ہے جس کا ذکر سورت کی ابتداء میں کیا گیا ہے کہ زانی اور زانیہ جب تک توبہ نہ کریں ، ان کا نکاح حرام ہے… اور آزاد مرد و زن کی بجائے غلاموں کے نکاح کے لیے صالحیت کی تخصیص اس لیے ہے کہ عادۃً غلاموں میں فسق و فجور زیادہ ہوتا ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہوں جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نکاح کے محتاج ہوں ۔ اس معنی کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ جب تک مملوک نکاح کا حاجت مند نہ ہو اس کا مالک اس کا نکاح کرنے پر مامور نہیں … اور یہ بھی کوئی بعید بات نہیں کہ اس سے دونوں ہی معنی مراد ہوں ۔ واللہ اعلم۔﴿ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اگر ہوں گے وہ تنگ دست۔‘‘ یعنی خاوند اور نکاح کرنے والے ﴿ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’تو غنی کر دے گا اللہ ان کو اپنے فضل سے۔‘‘ پس تمھیں یہ وہم نکاح کرنے سے نہ روک دے کہ جب تم نکاح کر لو گے تو عائلی بوجھ کی وجہ سے محتاج ہو جاؤ گے۔ اس آیت کریمہ میں نکاح کی ترغیب ہے، نیز نکاح کرنے والے سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے فقر کے بعد فراخی اور خوش حالی حاصل ہو گی۔﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بھلائی اور فضل عظیم کا مالک ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ وہ ان سب کو جانتا ہے جو اس کے دینی اور دنیاوی فضل یا کسی ایک کے مستحق ہیں اور وہ انھیں بھی جانتا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہیں ۔ وہ ان سب کو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق عطا کرتا ہے۔
[33]﴿ وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو نکاح کی طاقت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے حکم ہے جو نکاح کرنے سے عاجز ہے۔ اللہ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ پاک بازی کو اپنا شیوہ بنائے، حرام کاری میں پڑنے سے بچے اور ایسے اسباب اختیار کرے جو اسے حرام کاری سے بچائیں یعنی قلب کو ایسے خیالات سے بچائے رکھے جو حرام کاری میں پڑنے کی دعوت دیتے ہوں ، نیز وہ حرام کاری سے محفوظ رہنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اے نوجوانو! تم میں سے جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کرے اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے۔‘‘( صحیح البخاري، النکاح، باب قول النبیﷺ من استطاع منکم…، ح: 5065 و صحیح مسلم، النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت…، ح:1400)﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا ﴾یعنی اپنی محتاجی یا اپنے مالکوں کی محتاجی یا مالکوں کے نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اگر وہ نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور وہ اپنے نکاح کے لیے اپنے مالکوں کو مجبور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ معنی مقدر اس معنی سے بہتر ہے جو بعض لوگوں نے مراد لیا ہے کہ ’’جو لوگ نکاح کا مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ انھوں نے مضاف الیہ کو مضاف کا قائم مقام بنایا۔ مگر یہ معنی مراد لینے میں دو رکاوٹیں ہیں ۔(۱)کلام میں حذف ماننا پڑے گا، جبکہ اصل عدم حذف ہے۔(۲)معنی کا اس شخص میں منحصر ہونا جس کی دو حالتیں ہوں ، اپنے مال کی وجہ سے غنا کی حالت اور ناداری کی حالت۔اس صورت میں غلام اور لونڈیاں اس سے نکل جاتی ہیں اور اسی طرح وہ بھی جن کا نکاح کرانا سرپرست کے ذمے ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔﴿ حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک دامن شخص کے لیے غنا کا وعدہ کیا ہے، نیز یہ کہ وہ اس کے معاملے کو آسان کر دے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ کشادگی کا انتظار کرے تاکہ موجود حالات اس پر گراں نہ گزریں ۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَكَاتِبُوۡهُمۡ ﴾ یعنی تمھارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو کوئی تم سے مکاتبت کا طلب گار ہو اور اپنے آپ کو خریدنا چاہے تو اس کی بات مانتے ہوئے اس سے مکاتبت کر لو﴿ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اگر جانو تم ان میں ۔‘‘ یعنی مکاتبت کے طلب گار غلاموں میں ﴿خَيۡرًا﴾ ’’بھلائی۔‘‘ یعنی کمانے کی طاقت اور دین میں بھلائی کیونکہ مکاتبت میں دو مصلحتوں کا حصول مقصود ہے۔ آزادی کی مصلحت اور اس معاوضے کی مصلحت، جو وہ اپنے نفس کی آزادی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ بسااوقات وہ جدوجہد کر کے مکاتبت کی مدت کے اندر اپنے آقا کو اتنا مال مہیا کر دیتا ہے جو وہ غلامی میں رہتے ہوئے نہیں کر سکتا۔ اس لیے غلام کے لیے ایک بڑی منفعت کے حصول کے ساتھ ساتھ، اس مکاتبت میں آقا کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس پہلو سے مکاتبت کا حکم دیا ہے، جو وجوب کا حکم ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ یا دوسرے قول کے مطابق یہ حکم استحباب کے طور پر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی مکاتبت پر ان کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ اس کے محتاج ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَّاٰتُوۡهُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ﴾ ’’اور تم ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ اس میں مکاتب کے آقا کا معاملہ بھی شامل ہے جس نے اس کے ساتھ مکاتبت کی ہے کہ وہ اس کی مکاتبت میں اس کو کچھ عطا کرے یا مکاتبت کی مقررہ رقم میں سے کچھ حصہ ساقط کر دے اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی مکاتب کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مکاتبین کے لیے زکاۃ میں حصہ رکھ دیا ہے اور زکاۃ میں سے مکاتبین کو عطا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا: ﴿ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ یعنی جس طرح، یہ مال درحقیقت اللہ کا مال ہے، اس مال کا تمھارے ہاتھوں میں ہونا تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا محض عطیہ ہے، اسی طرح تم بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ احسان کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر غلام مکاتبت کا مطالبہ نہ کرے تو اس کے آقا کو حکم نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اس کے ساتھ مکاتبت کی ابتدا کرے، جبکہ اس میں اسے کوئی بھلائی نظر نہ آئے یا اسے معاملہ برعکس نظر آئے، یعنی وہ جانتا ہو کہ وہ کما نہیں سکتا اور اس طرح وہ لوگوں پر بوجھ بن کر ضائع ہو جائے گا۔ یا اسے یہ خوف ہو کہ جب بھی اس کو آزاد کر دیا گیا اور اسے آزادی حاصل ہو گئی تو اسے فساد برپا کرنے کی قدرت حاصل ہو جائے گی تو ایسے غلام کے بارے میں اس کے آقا کو مکاتبت کا حکم نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے برعکس اس کو مکاتبت سے روکا جائے گا کیونکہ اس میں متذکرہ بالا خطرہ موجود ہے جس سے بچنا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا تُكۡرِهُوۡا فَتَيٰتِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو‘‘ ﴿ عَلَى الۡبِغَآءِ ﴾ ’’زنا کار بننے پر‘‘ ﴿ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا ﴾ ’’اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں ۔‘‘ اس لیے کہ اس حالت کے سوا کسی حالت میں اسے مجبور کرنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ پاک دامن رہنا نہ چاہے تو اس صورت میں وہ بدکار ہے اور اس کے آقا پر واجب ہے کہ وہ اس کو اس بدکاری سے روک دے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے سے اس لیے روکا ہے کہ جاہلیت میں لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آقا اجرت کی خاطر اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تاکہ تم تلاش کرو دنیا کی زندگی کا سامان۔‘‘ پس تمھارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تمھاری لونڈیاں تم سے بہتر اور پاک باز ہوں اور تم صرف دنیا کے مال ومتاع کی خاطر ان کے ساتھ یہ سلوک کرو۔ دنیا کا مال بہت قلیل ہے وہ سامنے آتا ہے، پھر ختم ہو جاتا ہے۔ تمھاری کمائی تمھاری پاکیزگی، نظافت اور مروت ہے… آخرت کے ثواب وعقاب سے قطع نظر… یہ اس تھوڑے سے سامانِ دنیا کمانے سے کہیں بہتر ہے جو تمھارے رذالت اور خساست کے کمانے سے حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو توبہ کی طرف بلایا جن سے اپنی لونڈیوں پر جبر کرنے کا یہ گناہ سرزد ہوا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؔكۡرِهۡهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنۢۡ بَعۡدِ اِكۡرَاهِهِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبورکرنے کے بعد غفور رحیم ہے۔‘‘ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے اور ان تمام گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ جب وہ ان تمام گناہوں سے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس پر اسی طرح رحم فرمائے گا جس طرح تائب نے اپنے نفس کو عذاب سے بچا کر اپنے آپ پر رحم کیا اور جس طرح اس نے اپنی لونڈی کو ایسے فعل پر، جو اس کے لیے ضرر رساں تھا، مجبور نہ کر کے اس پر رحم کیا۔